اورنگ آباد 17 فروری (نامہ نگار): اورنگ آباد کے حج ہاؤس میں منعقدہ حج تربیتی کیمپ اس وقت تنازعے کا شکار ہو گیا جب مہاراشٹر حکومت کی جانب سے ریاستی حج کمیٹی کی ایگزیکیٹو آفیسر کے طور پر مقرر کی گئی غیر مسلم خاتون افسر کو حج ہاؤس کی مسجد میں لے جایا گیا جہاں مرد عازمینِ حج بھی موجود تھے۔ اس واقعے پر مسلم کمیونٹی میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے اور اسے اسلامی اصولوں کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
علماء اور عازمینِ حج نے اس اقدام پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حج کمیٹی آف انڈیا ایکٹ کے مطابق اس عہدے پر مسلمان افسر کو ترجیح دی جانی چاہیے مگر حکومت نے اس اصول کو نظر انداز کر دیا۔خدمتِ حجاج کمیٹی اورنگ آباد کے صدر مولانا نسیم الدین مفتاحی کو بھی اس معاملے میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان ہی کی نگرانی میں یہ کیمپ منعقد کیا گیا۔
اس کے علاوہ حج ہاؤس میں مبینہ غیر قانونی تقررات کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں جن میں سیاسی دباؤ کے تحت مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کی بات کہی جا رہی ہے۔مسلم کمیونٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ حج کمیٹی کی ایگزیکیٹو آفیسر کے طور پر کسی غیر مسلم کے بجائے کسی مسلمان افسر کو مقرر کیا جائے
حج ہاؤس میں ہونے والے متنازعہ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور غیر قانونی تقررات کی مکمل تحقیقات عمل میں لائی جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ حکام اس معاملے پر کیا اقدامات کرتے ہیں۔