ممبئی ، 9 دسمبر (ایجنسیز ) مہاراشٹر کے بیڑ ضلع میں واقع درگاہ بابا رمضان، مسجد اور قبرستان کو ‘کنیف ناتھ مندر’ (کانوبا دیوتا) بتاکر اس وقف ارضی اورجائیدار پر قبضہ کرنے کی کوشش اس وقت پوری طرح سے ناکام ہو گئیں، جب سپریم کورٹ نے اس معاملے میں اورنگ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "درخواست میں ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے”۔
تفصیلات کے مطابق، سپریم کورٹ کی بنچ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس اروند کمار پر مشتمل تھی، نے اس عرضی کو خارج کر دیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ درگاہ بابا رمضان، مسجد اور قبرستان وقف ادارے نہیں ہیں بلکہ کنیف ناتھ مندر (کانوبا دیوتا) ہیں۔ سپریم کورٹ نے مہاراشٹر وقف ٹریبونل اور اورنگ آباد بنچ کے فیصلے کی بھی توثیق کی، جس میں ان مذہبی مقامات کو وقف جائیداد قرار دیا گیا تھا۔
اس کیس میں وقف ادارہ اور متولی کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ارشاد حنیف اور ایڈووکیٹ سعید شیخ نے اپنے دلائل پیش کیے، جن کی مضبوط دلیلوں کی بنیاد پر عدالت نے فیصلہ سنایا۔ایڈووکیٹ سعید شیخ نے یو این ائی کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ، 2004 میں درگاہ بابا رمضان، مسجد اور قبرستان کے متولی شیخ رحیم الدین کھٹھڈو نے مہاراشٹر وقف ٹریبونل اور اورنگ آباد بنچ میں اس اراضی کو وقف کی ملکیت قرار دینے اور مستقل حکم امتناعی حاصل کرنے کے لیے دعویٰ دائر کیا تھا۔
مذکورہ درگاہ، مسجد اور قبرستان کئی صدیوں سے موجود ہیں اور ان کا خاندان ان وقف اراضیات کی خدمت انجام دے رہا ہے۔ یہ اراضیات سروے نمبر 22 اور 25 (نئے گروپ نمبر 101 اے اور 101 بی) کے تحت 61 ایکڑ اور 23 گنٹہ اراضی ہیں جو 1932-33 (1342 فصلی) کے ریکارڈ میں درج ہیں۔ اس کے علاوہ، مہاراشٹر حکومت کے وقف گزٹ 1978 کے ریکارڈ اور دیگر ریونیو ریکارڈ بھی موجود ہیں۔
انعامدار اور متولی کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ 17.07.1957 کو، بغیر کسی قانونی جواز کے، اس اراضی کے ریونیو ریکارڈ میں انعام داروں کے نام ہٹا کر کنیف ناتھ مندر کے طور پر درج کر دیا گیا تھا۔ اس ریکارڈ کو استعمال کرتے ہوئے مندر کا دعویٰ کرنے والے مدعا علیہان نے وقف ادارے کی انتظامیہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی۔
وقف ٹریبونل نے 31 مارچ 2012 کو انعام دار شیخ رحیم الدین کا دعویٰ تسلیم کرتے ہوئے مذکورہ جائیداد کو وقف قرار دیا اور مدعا علیہان کو مستقل حکم امتناعی دے دیا۔
مدعا علیہان نے اس فیصلے کو بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ میں چیلنج کیا، تاہم 9 اپریل 2014 کو جسٹس ٹی وی نالاوڑے نے وقف کے حق میں ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد مدعا علیہان نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "درخواست میں ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے”۔