جاوید خان ، بھرت بھالکے و دیگر متوفی اراکین کو پیش کی گئی خراج عقیدت
ممبئی: 14 ڈسمبر (یو این آئی)مہاراشٹرا مجلس قانون ساز کے دو روزہ سرمائی اجلاس کے پہلے دن، ریاستی اسمبلی نے، حال ہی میں انتقال کر جانے والے ارکانَ اسمبلی جاوید خان و بھرت بھالکے کے بشمول ، سابق ممبران کو خراج عقیدت پیش کیا ۔اجلاس میں، سابق وزرا وشنو ساورا ، جاوید خان ، ونایاک راؤ پاٹل ، سابق رکن اسمبلی سردار تارا سنگھ ، اننت راؤ دیوسرکر ، نارائن پاٹل ، نارسنگرا گھڑپالکر ، کسانن کھوپڈے ، سریش گور ، جگناتھ دھون کو، خراج عقیدت پیش کرنے کی تعزیتی تحریک ، وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے پیش کی جبکہ حزب اختلاف کے رہنما دیویندر فڑنویس نے اس کی حمایت کی۔
ریاستی اسمبلی اجلاس کے پہلے دن ، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر قابوپانے کے لیے زنابالجبرکے مجروں کو سزائے موت کے بشمول دیگر سخت سزائیں تجویر کرنے والے مجوزہ قانون ” شکتی ” (مہاراشٹرا شکتی فوجداری قانون (مہاراشٹر ترمیمی) ایکٹ2020 ، اور "مہاراشٹر شکتی فوجداری قانون 2020” کے بشمول 10 قوانیں اور چھ آرڈیننس کو ایوان میں پیش کیا گیا۔
آج اجلاس کے دوران، اسپیکر نانا پٹولے نے کہا کہ کوویڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر مناسب قواعد وضع کیے جائیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ اگلے بجٹ کے دوران اجلاس کی مدت کم نہ ہو۔
بی جے پی رہنما سدھیر منگینٹیور نے کورونا کی وجہ سے مقننہ کمیٹی کے اجلاس کے عدم انعقاد کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ” کورونا کے موجودہ بحران کے دوران ریلوے سروس شروع کی جا سکتی ہے تو بھر، مقننہ کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کرنے میں کیا حرج ہے۔” انہوں نے کہا کہ بعض کمیٹیاں قطعی طور پر تشکیل نہیں ہی دی جاتی ہیں۔پارلیمانی امور کے وزیر انیل پرب نے اس ضمن میں کہا کہ گورنر کو اپنے کوٹے سے نامزد ہونے والے 12 ممبروں کی فہرست کو منظور کرنا چاہئے۔ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر خزانہ اجیت پوار نے 21992 کروڑ روپئے کے اضافی مطالبات پیش کیے، جن پرکل اجلاس کے دوسرے دن غور کیا جائے گا۔