مولانا مسعود اظہر کے دورہ خلیجی ممالک کا انکشاف

نئی دہلی ۔ /17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہشت گرد کلیدی سازشی مسعود اظہر نے ایک ماہ طویل دورہ انگلینڈ ، خلیجی ممالک اور آفر یقہ کیا تھا تاکہ جموں و کشمیر میں عسکریت پسند کارروائیوں کیلئے مالی امداد جمع کی جائے ۔ مبینہ طور پر انہیں 15 لاکھ روپئے حاصل ہوئے تھے ۔ حالانکہ انتہائی غریب ممالک نے بھی ان کی تائید کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم شارجہ اور سعودی عرب نے ان کی آمد سے پہلے ہی 1994 ءمیں ان کیلئے 15 لاکھ پاکستانی روپئے مالی امداد فراہم کرنے کیلئے جمع کررکھے تھے ۔

 

مسعود اظہر کے بموجب اس سلسلے میں صیانتی اداروں نے برطانیہ میں 1992 ءمیں دورہ کے موقع پر ان سے جو سوالات کئے تھے ان کا ریکارڈ موجود ہے اور مفتی اسماعیل کے ساتھ جو سا¶تھ ہال لندن مسجد کے امام ہیں ان کی ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے ان کے سفر میں سہولت فراہم کی تھی ۔ ان کے دورہ کا آغاز گجرات سے ہوا تھا ۔ انہوں نے مفتی اسماعیل کے ساتھ دارالافتاءولعرش کراچی میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کی تھی اس لئے برطانیہ کے دورہ کے موقع پر ان کا قیام مفتی صاحب کے ساتھ برمنگھم ہی میں رہا ۔ دہشت گرد سازشی نے برطانیہ میں دیگر مسلم قائدین سے بھی ہوئی ۔ بعد ازاں انہوں نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہاں سے مالیہ جمع کیا ۔ مسعود اظہر نے ابوظہبی سے 3 لاکھ پاکستانی روپئے حاصل کئے جبکہ شارجہ میں 3 لاکھ اور سعودی عرب میں ان کے دوسرے دورہ کے موقع پر 2 لاکھ پاکستانی روپیوں کی مالی امداد دی۔ بعد ازاں انہیں ہندوستان میں گرفتار کرلیا گیا جبکہ وہ دارالحکومت کے ہوٹل جن پت میں مقیم تھے ۔ انہوں نے لکھن¶ سہارنپور اور دارالعلوم دیوبند کا بھی دورہ کیا تھا ۔ وہ دو روزہ دورہ پر ڈھاکہ بھی گئے تھے اور 1994 ءمیں دہلی کا بھی دورہ کیا تھا ۔ مسعود اظہر بعد ازاں /9 فبروری 1994 ءکو سری نگر پہونچے اور لال بازار کے علاقہ قاسمیا میں مقیم رہے ۔ واپسی میں ان کے ساتھ ایک افغانی عسکریت پسند بھی تھا ۔ دونوں مسلح تھے اور ان کے پاس ایک وائرلیس سیٹ ایک کار اور دیگر اشیاءبھی تھیں ۔ مسعود اظہر نے ایک آٹو رکشا میں بھی سفر کیا جبکہ وہ اننت ناگ گئے تھے ۔ ان کا یہ سفر تین کیلو میٹر طویل تھا ۔ شام میں انہوں نے سجاد افغانی کے ساتھ اپنے نائب امجد ہلال سے حرکت الجہادالاسلامی کے دفتر پر ملاقات کی ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading