موزمبیق: شدت پسندوں نے 50 افراد کا سرقلم کردیا

افریقی ملک موزمبیق کے شمالی صوبے کابو ڈیلگاڈو میں شدت پسندوں نے 50 سے زائدافراد کا سر قلم کردیاہے۔ جنگجو 2017 سے ہی اس صوبے میں اس طرح کے وحشیانہ حملے کررہے ہیں۔

موزمبیق کی سرکاری میڈیا اور پولیس نے بتایا کہ اسلامی شدت پسندوں نے شمالی موزمبیق کے کابوڈیلگاڈو صوبے میں پیر کے روز کئی گاوں پر حملے کردیے اور 50 سے زیادہ لوگوں کا سر قلم کردیا۔

ایک پولیس افسر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا” انہوں نے مکانات کو آگ لگادی اورجب لوگ اپنی جان بچانے کے لیے جنگلوں اور جھاڑیوں میں چھپ گئے تھے تو انہیں تلاش کرکے قتل کرنا شروع کردیا۔“ عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جنگجوؤں نے ایک گاوں کے رہائشیوں کو گھروں سے نکال کر فٹ بال کے ایک میدان میں جمع کیا اور پھر ان سب کو وہیں قتل کردیا۔
جنگجووں نے عورتوں اور بچوں کو مبینہ طور پر اغوا بھی کرلیا ہے۔

کابو ڈیلگاڈو گذشتہ تقریباً تین برسوں سے بغاوت کی آگ میں جل رہا ہے۔ قومی حکومت کی طرف سے اس علاقے کو نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے نفرت میں مزید شدت پیدا ہو رہی ہے۔ دولت اسلامیہ (آئی ایس) سے وابستہ اسلامی انتہاپسند گروپ اس بد امنی کا استحصال کر رہے ہیں۔ وہ بستیوں پر وحشیانہ حملے کررہے ہیں اور اپنے اس کام میں مدد کے لیے مقامی مایوس نوجوانوں کی تقرری کر رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کو وہ یہ باور کراتے ہیں کہ دراصل ان کا مقصد خطے میں اسلامی خلافت قائم کرنا ہے۔

اپریل میں جنگجووں نے 50 سے زائد نوجوانوں کو اس وقت ہلاک اور ان کا سر قلم کردیا تھا جب ان نوجوانوں نے مبینہ طورپر دہشت گر د گروپ میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز باغیوں کو قابو میں کرنے کے نام پر اس صوبے میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔

ج ا / ص ز (ڈی پی اے، اے ایف پی)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading