مودی حکومت یوروپی ارکان کے لئے سرخ قالین بچھا رہی ہے، کچھ تو غلط ہو رہا ہے: راہل گاندھی

نئی دہلی: کانگریس نے یوروپی ممبران پارلیمنٹ کے دورہ کشمیر کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے ہندوستانی پارلیمنٹ اور ممبران پارلیمنٹ کے خصوصی استحقاق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

گزشتہ روز کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کے ممبران پارلیمنٹ کو ان کے دورہ کشمیر پر تحویل میں لے لیا گیا اور سری نگر سے وطن واپس بھیج دیا گیا، وہیں حکومت یوروپی ممبران پارلیمنٹ کے لئے سرخ قالین بچھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں کچھ بہت غلط ہو رہا ہے۔

اس سے قبل کانگریس کے سینئر رہنما آنند شرما نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یوروپی ممبران پارلیمنٹ کشمیر جارہے ہیں۔ انہیں پوری معلومات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ یہ ہندوستانی پارلیمنٹ کی خود مختاری کے خلاف ہے اور ہندوستانی ممبران پارلیمنٹ کے خصوصی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کو کشمیر میں سماجی تنظیموں اور افراد سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔ یوروپی ممبران پارلیمنٹ کوکشمیر لے جانا حکومتی پالیسیوں میں تضاد ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے، یہ بھی اس تصور کے خلاف ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ نئی ہندوستانی قوم پرستی ہے۔

کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے ایک ٹوئٹ میں کہا، ’’جموں و کشمیر ہمارا ہے، پھر یورپی یونین کیسے آئے؟‘‘ ہمارا معاملہ، ہم دیکھیں گے! لیکن مودی جی نے یوروپی یونین کو کشمیر میں ’پنچ‘ کیوں بنایا؟ دوسرے ممالک کے اراکین پارلیمنٹ کو کشمیر جانے کی اجازت ہے، ہمارے ممبران پارلیمنٹ کیوں نہیں؟ یہ مودی سرکار کی جعلی قوم پرستی اور پارلیمنٹ کی توہین ہے‘‘۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading