مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ملکی مفاد کے لیے سنگین خطرہ، بھارت تنہائی کا شکار: اتل لونڈھے

مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ملکی مفاد کے لیے سنگین خطرہ، بھارت تنہائی کا شکار: اتل لونڈھے

امریکہ نوازی نے بھارت کو روایتی دوستوں سے دور کر دیا، چابہار پورٹ جیسے اہم منصوبے داؤ پر لگ گئے

مودی یا بی جے پی کا مطلب ملک نہیں، غلط فیصلوں کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور چیف ترجمان اتل لونڈھے نے مرکزی حکومت کی موجودہ خارجہ پالیسی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے اسے ملکی سلامتی اور عالمی وقار کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی امریکہ اور اسرائیل نواز پالیسیوں نے بھارت کو اپنے جغرافیائی خطے میں تنہا کر دیا ہے، جس کے دور رس نتائج ملک کے حق میں بہتر نہیں ہوں گے۔

اتل لونڈھے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رہی ہے، لیکن موجودہ دور میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے اہم فیصلے واشنگٹن کے دباؤ میں لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی خوشنودی کے لیے ایران سے تیل کی درآمد بند کرنا اور روس کے ساتھ تعلقات میں ہچکچاہٹ دکھانا ہماری اسٹریٹجک خود مختاری پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس چابہار پورٹ کو بھارت کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا، آج اس کے آپریشنز کو پسِ پشت ڈالنا مودی حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

کانگریس ترجمان نے علاقائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج چین، روس، ایران اور پاکستان ایک نئے بلاک کی صورت میں متحد ہو رہے ہیں، جبکہ بھارت اپنے پڑوسیوں اور روایتی اتحادیوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین عالمی سطح پر یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو رہا ہے کہ بھارت اب گلوبل ساؤتھ کی آواز نہیں رہا بلکہ مغربی طاقتوں کا آلہ کار بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خدانخواستہ تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں، تو ایسی صورتحال میں بھارت کی دفاعی پوزیشن کیا ہوگی اور امریکہ کس حد تک بھارت کا ساتھ دے گا، یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اتل لونڈھے نے بی جے پی کے اس بیانیے پر بھی سخت حملہ کیا جس میں مودی حکومت پر تنقید کو ملک کی توہین قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ مودی یا بی جے پی کا نام ملک نہیں ہے، ملک 140 کروڑ عوام سے بنتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین اور اسرائیل کے معاملے پر بھارت کی جو روایتی ٹو اسٹیٹ پالیسی رہی ہے، اس سے انحراف کرنا سابقہ وزرائے اعظم بشمول اٹل بہاری واجپئی کی پالیسیوں کی نفی ہے۔ انہوں نے میڈیا کے ایک حصے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اپوزیشن کو نشانہ بناتا ہے، جبکہ عالمی فورمز پر ملک کے مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

MPCC Urdu News1. 26 Feb. 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading