ممبئی ۔6 اگست( ورق تازہ نیوز ) ممنوعہ تنظیم داعش سے تعلق رکھنے کے الزام میں اورنگ آباد اور ممبرا کے گرفتار شدہ نو جوانوں کا مقدمہ اورنگ آباد کی خصوصی عدالت میں برق رفتاری سے جاری ہے آج ےہاں عدالت میں کئی دنوں سے جاری فریقین کی بحث اور جرح مکمل ہو گئی ہے اور عدالت نے فیصلہ سنانے کے لئے۴۱ اگست کی تاریخ مقرر کی ہے ۔ اس بات کی اطلاع آج ےہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظےم جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔مزید تفصیلات دیتے ہوئے مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ ممبرا اور اورنگ آباد سے گرفتار کئے گئے ۸ مسلم نوجوان مظہر عبد الرشید ،محسن سراج الدین خان ،سلمان سراج الدین خان ،سر فراز عبد الحق عثمانی،طلحہ حنیف پوترک ،فہد اشتیاق انصاری ،ضمان نواب قطو پاڑ،کو اس کیس میں سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے اور پورے ہی معاملہ میںبڑی دھاندلیاں،غیر قانونی چیزیں ،اور قانونی ضابطوں کی خلاف ور زی کی گئی ہے، ان نو جوانوں کو انصاف دلانے کے لئے جمعیةعلماءمہا راشٹر کی لیگل ٹیم اورنگ آباد کی خصوصی عدالت میں اس مقدمہ کی پیروی کررہی ہے۔ جمعیة علماءمہا راشٹر کی جا نب سے اس کیس کی پیروی کرنے والے دفاعی وکیل ایڈوکےٹ پٹھان تہور خان اور ان کی ٹیم نے اے ٹی ایس کی دھاندلیوں کو عدالت کے رو برو اجاگر کیا ہے اور قانونی نکاة کے ذریعہ اس جھو ٹے کیس کی بنیادکو ہلانے کی کوشش بہت حد تک کار گر ثابت ہو رہی ہے، دفاع نے گذشتہ سماعت کے دوران عدالت سے نوجوانوں کی رہائی کی در خواست کی تھی ، اورزودار بحث کرتے ہوئے اس جھوٹے کیس کوسر ے سے ہی ختم کرنے کے لئے ©Jurisdiction Cognizance کے اہم قا نونی نکات کو عدالت کے سامنے پیش کیا تھا بہرحال آج استغاثہ اور دفاع دو نوں فریقین کی بحث مکمل ہو گئی ہے عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اور فیصلہ سنانے کے لئے ۴۱ اگست کی تاریخ مقررکی ہے۔ آج عدالت میں اس کیس کی سماعت کے دوران جمعیة لیگل ٹیم کے سر براہ ایڈوکےٹ پٹھان تہور خان اور مقامی جمعیة علماءکے ذمہ داران و احباب موجود تھے ۔۳