ممبئی ، 22 اکٹوبر ۔ پاکستان میں خواتین کے حقوق اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں کے اعتراف میں سلمان صوفی کو اتوار کو ممبئی میں مدر ٹریسا ایوارڈ دیا گیا ۔ سلمان صوفی نے ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک میں خواتین کو بہت سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے انسانیت کی بے پناہ خدمت کرنے والی مدر ٹریسا کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس ایوارڈ کے بعد پاکستان کی نو منتخب حکومت ان کے شروع کیے گئے منصوبوں کو آگے جاری رکھے گی۔ سلمان صوفی نے پاکستان کے صوبے پنجاب کی سابقہ حکومت کے دوران خواتین کی خود مختاری کے حوالے سے قانون سازی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے پنجاب میں خواتین سنٹرز بھی قائم کیے تھے۔ صوفی کی کوششوں سے جنوبی ایشیا کا سب سے پہلا اس طرح کا سنٹر ملتان میں قائم کیا گیا تھا۔ اس سنٹر میں متاثرہ خواتین کی سہولت اور آسانی کیلئے تمام عملہ خواتین پر مشتمل تھا۔ اسی سنٹر میں متاثرہ خواتین کو رہائش کی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی۔ سلمان صوفی نے کہا،”اس سنٹر کے قائم ہونے کے ایک سال کے دوران ہم دو ہزار سے زائد کیس حل کر چکے تھے۔ اس منصوبے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ خواتین اس سنٹر میں آنے سے گھبراتی نہیں ہیں کیونکہ تمام عملہ خواتین پر مشتمل ہے“ صوفی کو ’ویمن آن وہیلز‘ منصوبے کیلئے بھی سراہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صوبہ پنجاب میں لگ بھگ 3500 خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی تربیت دی گئی تھی۔ صوفی نے بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ پاکستان کی نو منتخب حکومت ان کے شروع کیے گئے منصوبوں کو آگے نہیں چلائے گی۔ انہوں نے بتایا،”ہم پاکستان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ وہ ان منصوبوں کو ختم نہ کریں۔“ اس برس یہ انعام نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی اور نادیہ مراد کے علاوہ افغان خاتون اول رولا غنی کو دیا گیا ہے۔ پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی اور بلقیس ایدھی کو بھی اس سے قبل اس اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ انعام پانے والوں میں دلائی لاما اور مہاتیر محمد جیسی شخصیات بھی شامل ہیں۔