ملی تنظیموں کے نام ۔۔

عبید باحسین(7350715191)

عبید باحسین(7350715191)

مہاراشتر میں عام انتخابات اپنے شباب پر ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے امیدواروں کا اعلان ہوگیا ہے۔ ایسے میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکمت عملی اور سیاسی پالیسی پروگرام کے تحت بہت سی ملی جماعتوں سے رابطہ قائم کیا جارہا تو کچھ بخود ان سے رابطہ قائم کرنے کے خواہاںہیں۔ کانگریس کو گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ملی تنظیمیوں کی تائید کے باوجود بھی مہاراشٹر میں صرف دو مقامات ناندیڑ اور ہنگولی میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی۔ ان امیدواروں کے منتخب ہونے کے بعد ان سے یہ امید تھی کے یہ ایوان پارلیمینٹ میں گزشتہ ۵ سالوں میں مسلمانوں کے مسائل پر اپنی آواز بلند کر حکومت وقت سے سوال کر تے لیکن ان حضرات کی زبان سے ’ مسلمان‘ یہ لفظ ہی نہیں نکل سکا۔ طلاق ثلاثہ کے بل کے موقع پر مسلم عوام راجیو ساتو اور اشوک چوہان کو نمائندگی کرتا دیکھنا چاہتی تھی، لیکن انھیں ناراض ہونا پڑا۔ نہ ہی ان دونوں نے ایوان کے اندر اور باہر طلاق ثلاثہ اور ہجومی تشدد کے متعلق کسی بھی طرح کابیان جاری کیا۔اشوک چوہان نے اپنے حلقہ پارلیمینٹ میں ۵ سالوں میں ملنے والے کروڑوں روپیوں کے فنڈ میں سے کسی بھی طرح کا کوئی کام مسلم علاقوں میں نہ کرتے ہوئے تعصب کا مظاہرہ کیا۔ نیز یہ کے مسلمان ان کی رہنمائی سے مکمل طور پر محروم رہے۔

اشوک چوہان مہاراشٹر کانگریس کے صدر بھی ہیں ۔ ان کے دورصدارت میں سناتن سنستھا جو کے مسلمانوں کی کھلی دشمن ہے، اس کی حمایت کرنیوالے ایک امیدوار کو رتناگیری سے امیدواری دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ہنگولی اور چندر پور سے راجیو ساتو اوراشوک کی چوہان کی پر زور وکالت کے بعدکانگریس نے مسلم دشمن شیوسینا اوربی جے پی سے تعلق رکھنے والے وانکھیڑے اور دھانورکر کو امیدوار بناکر مسلمانوں کے سامنے دو شیوسینا امیدواروں میں سے ایک کو منتخب کرنے کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔

چند روز قبل ناندیڑ کی ایک ملی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک رکن کی جانب سے ایک مقامی اخبار میں لکھے مراسلے میں یہ لکھا گیا ہیکہ ــ’’ بہر حال ناندیڑ کے مسلمان کانگریس کو اپنی پارٹی سمجھتے ہیں اور گلے شکوے بھی کرتے ہیں ‘‘اپنے آپ میں چونکانے والا ہے کہ کس قدر پاکیزہ فنکشن ہال میں منعقدہ نشست میں علمائوں کی جانب سے پوچھے گئے جائز سوالات کوـ’گلے شکوے‘ قرار دے کر ہلکے میں دکھانے کی ناکام کوشش کی گئی ۔ایسا لگتا ہیکہ ہر بار کی طرح اس بار بھی چند ملی تنظیموں کے یہاں’ مصلحت ‘کے نام پرتمام حقائق کو نظر انداز کر کانگریس کوتائید دینے کا خیال زیر غور ہے، ان تمام کو چاہیے کے وہ کسی بھی فیصلہ سے قبل مولانا مودودی علیہ رحمہ کی اس تاکید کو دوبارہ یاد کرے’’ انسان کی سب سے بڑی زلت یہ ہے کہ وہ باطل کی طاقت کو دیکھ کر غلامی پر آمادہ ہوجائیـ‘‘ نیز ناندیڑ میں سب کچھ جاننے کے باوجود بھی صرف اشوک چوہان چن کر آسکتے ہیں ، تو کیاان کی اسی طاقت کو دیکھ کر کچھ دانشور اور ملی تنظیمیں بھی اسی غلامی کو پشند کر نے پر آمادہ ہیں؟

بالآخر آپ میری رائے سے مختلف رائے رکھ سکتے ہیں لیکن میری رائے یہی ہے کے ملی جماعتوں کو کسی بھی سیاسی پارٹی کی حمایت اور مخالفت سے پرہیز کرنا چاہیے۔ عین الیکشن سے قبل کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے سے سماج میں پانچ سال محنت کرنے والے حزب اختلاف کے سیاسی کارکنان کی ہمت پست ہوجاتی ہے۔ان کے مخالفین کو بنا کسی محنت کے ملی جماعتوں کی حمایت سے فائدہ حاصل ہوجاتا ہے۔ ملی جماعتوں کو چاہیے کے وہ حکومت کی تشکیل کے بعد مسلم قیادت کے ہمرا ملی مسائل پر حکومت سے رہنمائی کریں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading