نئی دہلی13 مارچ۔ملک کی آدھی آبادی قحط جیسی حالت کی گرفت میں ہے۔ ڈاو¿ن ٹو ارتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس آبادی کی 16 فیصد آبادی شدید قحط سے پریشان حال ہے۔ رپورٹ کے مطابق،یہ اطلاع، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی(آئی آئی ٹی)گاندھی نگر نے ساو¿تھ ایشیا ڈراو¿ٹ مانیٹرنگ سسٹم کے توسط حاصل کی ہے۔اس بارے میں آئی آئی ٹی گاندھی نگر کے پروفیسر ومل مشرا نے ڈاو¿ن ٹو ارتھ کو بتایا کہ آئندہ موسم سرما میں لوگوں کو پینے کے پانی کو لے کر پریشانی کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ملک میں قحط کی صورت حال کے مدنظرریئل ٹائم کی درست نگرانی کے سسٹم کو چلانے والی آئی آئی ٹی کی ٹیم نے محکمہ موسمیات سے موسم اور بارش سے متعلق اعداد و شمار کو جمع کیا اور پھر مٹی کی نمی اور سوکھے سے متعلق اعداد و شمار کے ساتھ اس کا تفصیلی مطالعہ کیا۔مشرا نے بتایا کہ،ملک کی آبادی ’ ”غےرمعمولی “قحط سے پریشان حال ہے۔اس کی جانکاری ہمیں اپنے ریئل ٹائم کی نگرانی کرنے والے سسٹم سے ملی ہے،جس کو ہمارے ملک میں ہی تیار کیا کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال اروناچل پردیش میں اچھی بارش نہیں ہوئی اور جھارکھنڈ، جنوبی آندھر پردیش، گجرات اور تمل ناڈو کے شمالی حصے قحط کی گرفت میں ہیں۔انہوں نے وارننگ دی کہ اگر ان ریاستوں میں مانسون کی شروعات سے پہلے بہت تیز گرمی کا احساس ہوتا ہے، تو اس سے بحران اورگہرا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اس قحط سے ملک کے پہلے سے ہی گھٹ رہے آبی سطح کے وسائل پر اور زیادہ بوجھ پڑےگا، کیونکہ ہم زمین میں پانی کے ذرائع کو بڑھا نہیں رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ہم ان ذرائع سے ہی زیادہ سے زیادہ پانی نکال رہے ہیں۔انہوں نے کہا، آنے والے سالوں میں گلوبل وارمنگ اور آب وہواکی تبدیلی سے قحط کے امکان اضافے کی امید ہے۔ اس لئے، حکومت کو زمین کے اندر پانی اور آبی تحفظ کے متعلق سخت فیصلہ لینے کی ضرورت ہے۔ مشرا نے کہا کہ اگر ہمارے پاس پہلے سے ہی زمین میں پانی کم ہے تو آپ مناسب فصلوں کا انتخاب کرکے پانی کے بہاو¿ کو کم کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا ،ہمیں ان فصلوں کو اگانے پر زور دینا چاہیے، جس میں پانی کا استعمال کم ہوتا ہو۔ بے شک، تحفظ کی ہر سطح پرحوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، کیونکہ کل تازہ پانی کا 80 فیصد رہائشی مقامات کے بجائے زرعی مقامات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ، قحط جیسی حالت پیدا ہونے کی امید نہیں ہے، لیکن اس سوکھے سے معیشت پر غلط اثر پڑ سکتا ہے۔