نئی دہلی، 08 مئی (یواین آئی) مرکزی حکومت لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے میں ملک کے مختلف حصوں میں پھنسے مائیگرینٹ ورکرز کو ان کی آبائی ریاست بھیجنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اب تک 222 خصوصی ٹرینوں سے ڈھائی لاکھ سے زائد ایسے افراد کو ان کی آبائی ریاست بھیجا جا چکا ہے۔اس دوران لاک ڈاؤن کے رہنما خطوط پر عمل کیا جارہا ہے۔
اس کے بعد اب مرکزی حکومت بیرون ملک میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کو وطن لانے کی کوشش کر رہی ہے اور سات مئی سے یہ کام شروع ہو گیا ہے۔یہ کام نان شیڈیولڈ کمرشیل فلائٹوں اور ناےسےنا کے بحری جہاز سے کیا جائے گا۔ اس سہولت کا فائدہ اٹھانے کے لئے بیرون ملک میں رہ رہے ہندوستانیوں کو وہاں کے ہندوستانی سفارت خانوں اور ہائی کمیشن میں رجسٹریشن کرانا ہوگا اور اس میں حاملہ خواتین، طالب علموں ، ویزا کی مدت ختم ہونے والے افراد اور بیمار لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔سفر کا خرچ یہ لوگ خود برداشت کریں گے۔
وزارت داخلہ کی ترجمان پونیا سلیلا شریواستو نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بیرون ملک سے ہندوستان آنے والوں ایسے ہی مسافروں کو اجازت دی جائے گی جن میں کورونا وائرس کی کوئی علامات نہیں ہوں گی اور سبھی مسافر یہ حلف نامہ دیں گے کہ وہ ہندوستان پہنچنے پر کم سے کم مدت یعنی 14 دن کے لازمی ادارہ جاتی قرنطینہ میں رہیں گے۔ طیارے میں سوار ہونے کے وقت سبھی مسافر تھرمل اسکریننگ کرائیں گے اور صرف ان لوگوں کو جہاز میں سوار ہونے کی اجازت ہوگی جن میں کووڈ-19 کی علامتیں نہیں پائی جائیں گی۔ مسافروں کو آروگیہ سیتو ایپ رجسٹر کرنا ہوگا۔وزارت خارجہ مسافروں کی آمد سے پہلے ان کی فہرست متعلقہ ریاستی حکومت سے شیئر کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ گرین کارڈ ہولڈر، او سی آئی کارڈ ہولڈر اور ہندوستانی شہری جو خاص وجوہات کے سبب بیرون ملک کے دورے پر جانا چاهتے ہیں ان کے سفر کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ بشرطیکہ وہ ملک اپنے یہاں آنے کی اجازت دیتا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ کہ آئی این ایس جلاشوا مالدیپ سے 700 ہندوستانیوں کو لے کر آج روانہ ہوگا اور یہ 10 مئی کو کوچی پہنچ جائے گا۔ بیرون ملک میں پھنسے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لئے شروع کئے گئے ‘وندے بھارت’ مشن کے تحت سنگاپور سے ہندوستانیوں کو لے کر ایئر انڈیا کا خصوصی طیارے جمعہ کو دہلی پہنچا۔
ایئر انڈیا کی پرواز نمبر اے آئی-381 وندے بھارت مشن کی تیسری پرواز تھی۔اس سے پہلے جمعرات کی رات ایئر انڈیا ایکسپریس کی ایک پرواز ابوظہبی سے کوچی اور ایک دبئی سے کوژی کوڈ آئی تھی۔