معلم کائنات ﷺ کا طریقۂ دعوت وتبلیغ

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی

دین کی دعوت دینا سنت انبیاے کرام ہے ۔حضرت آدم؈ سے لیکر تمام نبیوں کے سردار حضور محمدمصطفیٰ ﷺ نے اللہ کے حکم سے یہ کام انجام دیا ۔ہر زمانے میں اللہ نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاے کرام کو مبعوث فرمایا تا کہ اس کے بندے اللہ اور اس کے بھیجے ہو ئے پیغمبروںو رسولوں پر ایمان لا ئیں اور صحیح را ستے پر چلیں ۔پیغمبروں کی تمام تعلیمات میں عقیدۂ تو حید سب سے پہلی اور بنیادی تعلیم تھی ۔اس کام پر اللہ نے بڑا اجر و ثواب بھی رکھا ہے ۔دعوت ِدین کا کام جہا ں عظمت اور اہمیت کا حامل ہے وہیں یہ انتہائی سخت صبر آزما اورمشکل بھرا کام بھی ہے ۔قرآن و احادیث اورانبیا ے کرام کی سیرت میں اس کی صراحت موجود ہے ۔تمام انبیاے کرام اور اللہ کے محبوب نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے اس فریضہ کے ادا کر نے میں بے انتہا تکلیفیں برداشت کی ہیں جو اہل ِعلم سے مخفی ٰ نہیں ۔انبیا علیہم السلام نے انسانوں کو را ہ راست کی طرف بلا نے کے لیے جو طریقہ اپنا یا وہ پیغام پہنچا نے اور نصیحت و تلقین کر نے کا تھا ۔ضرورت پڑنے پر اس کی بھی اجازت دی گئی کہ مخاطبین سے اچھے طریقے سے بحث و مباحثہ کیا جا ئے۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ نے یہ حکم دیا :

{ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ} [النحل: 125]
ترجمہ :اے نبی !اپنے رب کے را ستے کی طرف دعوت دو ،حکمت اور عمدہ نصیحت کے سا تھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پرجو بہترین ہو تمہا را رب ہی زیادہ بہتر جا نتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہ راست پرہے (کنز الایمان )
اللہ رب العزت نے دعوت دینے کے تین آداب کی رعایت کر نے کا حکم دیا ہے ۔(1)حکمت (2)موعظت حسنہ (3)مباحثہ ۔
یہ تینوںدعوت ِ دین کے بنیا دی اصول ہیں ۔دعوت دین پیش کر نے پر لوگ اعتراض بھی کر سکتے ہیں اور طرح طرح کے سوالات بھی، تو داعی کو اس کی علمی حیثیت کے اعتبار سے حکمت کے سا تھ مباحثہ کرنا پڑ تا ہے اور دلائل کے سا تھ حق و سچ بتا نا پڑتا ہے تا کہ حق وباطل کی سمجھ آجا ئے ۔اب اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈا ل دیتاہے۔دعوتی طریقۂ کار میں حکمت و دانشمندی بہت ضروری ہے جس کا ذکر رب کریم نے قرآن مجید میں فر مایا ہے :
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلیٰ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْ امِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (القرآن سورہ آل عمران،آیت:166)
ترجمہ :بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھا تا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمرا ہی میں تھے ۔(کنزالایمان )
جہا ں قرآن میں حکمت کو بڑی دولت بتا ئی گئیہے وہیں حدیث پاک میں بھی اسےقابل رشک قرار دیا گیا ہے ۔چناں چہ حضرت ابن مسعود ؄سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :حسد(رشک )کرنا صرف دو ہی آدمیوں کے سا تھ جا ئز ہو سکتا ہے ۔ایک تو اس شخص کے سا تھ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق اور مناسب جگہوں میں خرچ کر نے کی توفیق دی ۔دوسرے اس شخص کے سا تھ جسے اللہ تعا لی نے حکمت (عقل ،علم قرآن وحدیث اور معا ملہ فہمی )دی ۔اور وہ اپنے حکمت کے مطابق حق فیصلے کرتا ہےاور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے ۔(بخاری شریف،حدیث نمبر 1409)
علامہ آلوسی بغدادی حکمت کی تفسیر یوں بیان فرماتے ہیں :
الکلام الصواب القریب الواقع من النفس اجمل موقع (تفسیر البحرالمحیط ص 612،ج6 الفکر بیروت )
یعنی حکمت وہ بصیرت و شعور ہے جس کے ذریعہ انسان مناسب وقت کلام کرے ۔اور موقع ایسا تلاش کرے کے مخاطب کے مزاج پر اس کی کوئی بات گراں نہ گزرے،یعنی نرمی کی جگہ نرمی ،سختی کی جگہ سختی، اختصار کی جگہ اختصار اور طوالت کی جگہ طوالت اختیار کرے اور جہاں صراحت کے سا تھ کو ئی بات کہنے میں مخاطب کو ناگوار گزرتا ہو تو وہاں اشارے سے مطلب ظاہرکر نا ہی کا فی ہے ۔احادیث کے ذخیرہ میں اور بھی حدیثیں ہیں ،مقالہ کی طوالت کا خوف ہے ۔موعظت حسنہ سے مراد یہ ہے کہ دعوتی و اصلاحی کام کرتے وقت دعوت پیش کر نے وا لے کے اندر ہمدردی اور خیر خوا ہی کا جذبہ ہو ،جس سے مخاطب کو مؤثر انداز میں باتیں پیش کی جا ئیں ۔
*اصلاح معاشرہ میں علماکا کردار اور ذمہ داریاں :*
علم و حکمت اللہ کی بڑی نعمت ہے ۔قرآن مجید میں ہے:
وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ْ یُؤْتَ الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَاءُ وَ مَنْ یُؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْ تِیَ خَیْراً کَثِیْرًاطوَمَا یَذَکَّرُ اِلّآ اُوْلُوْ الْاَلْبَابِ( القرآن:سورہ البقرۃ،آیت (268,269
ترجمہ :اللہ تعالیٰ وسعت وا لا اور علم وا لا ہے ،اللہ حکمت (و دانائی دیتا ہے جسے چا ہے اور جسے حکمت یعنی علم ملا )اسے بہت بھلا ئی ملی ۔اسلام چوں کہ کامل و اکمل دین ہے ،لہٰذا انسا نی زندگی کے ہر شعبے پر اس کا حکم نافذ ہے۔ علماےکرام وارث انبیا ہیں ۔اللہ رب العزت نے ان کو علم و حکمت کی دولت سے نوازا ہے تو ظاہر سی بات ہے ان پر بھی ذمہ داریا ں عائد ہوتی ہیں دعوت اسلام کے دینے وا لے علماے کرام اور داعیان ِ اسلام سبھی ذمہ داروں کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ لوگو ں کے مسا ئل و مشکلات پر توجہ دیں ،حتی المقدور ضرورت مندوں کی مدد کریں ۔مظلوموں کی حمایت اورمصیبت زدگان کی اعانت کریں ۔اس طرح کے کام کر نے سے دعوت وتبلیغ کے کام کو فائدہ پہنچے گا ۔یہ وہ کام ہیں، جسے نبیوں اوررسولوں نے بھی کیا ۔مثال کے طور پر اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ؈ نے انجام دیا (القرآن ،سورہ ال عمران 49)
ترجمہ :میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہو ں اور اللہ کے اذن سے مردے زندہ کرتا ہو ں میں تمہیں بتا تا ہو ں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر کے رکھتے ہو بے شک ان باتوں میں تمہارے لیے بڑی شان ہے، اگر تم ایمان رکھتے ہو ۔حضرت یوسف ؈ کے زمانے میں قحط پڑا، آپ نے بندگان ِ خدا کی خدمت کی اورہر طرح کی مدد فرمائی ۔اسی طرح ہمارے آقا ﷺ نے ہمیشہ مظلوموںاورضرورتمندوں کی مدد کی وغیرہ وغیرہ۔جس دورمیں ہم ہیں وہ انتہائی ترقی یافتہ اور ٹیکنالوجی کادور ہے ۔ان جدید ذرائع سے لوگوں تک دین کی دعوت کو پہنچائیں،دین کی دعوت پیش کرنے کے لیے بہت سی حکمتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ دعوت دین، عقیدہ،مسائل شرعیہ وغیرہ پیش کرنے کے وقت مخاطب کی ذہنی سطح اور اس کے علم و فہم کی رعایت ضرور کریں،لوگوں سے ان کی فہم کے مطابق گفتگو کریںآقا ﷺ فرماتے ہیں :
*حدثو الناس بما یعرفون* (بخاری شریف حدیث نمبر128)
ترجمہ:لوگوں سے ان کی فہم کے مطابق گفتگو کرو۔
کتاب و سنت میں جگہ جگہ مصلحت و تدریج کو ملحوظ رکھا گیا ہے ۔تدریج کا مطلب یہ ہے کہ مرحلہ وار اسلام کی تعلیم و ہدایات اورعقائد مخاطب کے سا منے بیان کیےجا ئیں۔یک بارگی تمام احکام بتا نے سے مخاطب وسامع پر یشا ن اوربوجھل ہو جا ئے گا ۔دعوتی مذاکرات کے وقت مخاطب کی نفسیات کاخیا ل رکھا جا ئے ۔آپ ﷺ دعوت دیتے وقت مخاطب کی نفسیات کا خیال رکھا کرتے تھے ۔سیرت نبی ﷺ میں بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ حدیث ملاحظہ فرمائیں :
روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا؟ اللہ کے رسول آپ مجھے زنا کی اجازت دیجئے ،اتنا کہنا تھا کہ صحابہ میں ایک شور برپا ہو گیا آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو مجھ سے قریب کرو ،وہ قریب ہو کر سا منے بیٹھ گیا ۔آپ ﷺ نے فرمایا :کیا تم اپنی ماں کے سا تھ یہ ناگوار حرکت کروںگے؟ اس نے کہا نہیں، آپ ﷺ نے کہا: اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنی ماؤں کے سا تھ ایسا گوارا نہیں کریں گے ،پھر آپ نے دریافت کیا تم اپنی بیٹی کے ساتھ یہ حرکت کرنا پسند کروں گے ؟اس نے کہا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا :اسی طرح لوگ اپنی بیٹیوں کے لیےاس کو ناپسند کرتے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم اپنی بہن کے سا تھ یہ حرکت کروںگے؟ اس نے کہا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اسی طرح لوگ اپنی بہنوں کے لیےاس کو ناپسند کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایک کر کے آپ ﷺ نے پھوپھی اورخالہ کے بارے میں دریافت کیا، آخر میں اس کے سینہ پر اپنا دست مبارک رکھ کر یہ دعا فرمائی یا اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما، اس کے دل کو پاکیزگی عطا فرما اور اس کی شرم گاہ کو محفوظ فرما(المعجم الکبیر لطبرانی)
اس حدیث پاک میں آپ ﷺ نے نفسیاتی طور پر اس کے ذہن میں زنا کی نفرت بٹھا ئی۔ چناں چہ وہ ہمیشہ کے لیے زنا سے تائب ہو گیا ۔اگر سختی سے اس کو زنا سے رو کا جا تا تو عین ممکن تھا کہ وہ زنا میں مبتلا ہو جا تا ۔سیرت رسول ﷺ میں بہت سی مثالیں موجودہیں ۔
*مذہب اسلام پر یلغار اور اس کا سد باب :*
آج ہر چہار جانب سے اسلام پر نت نئے طریقے سے حملے ہو رہے ہیں۔ اسلام کے بنیادی عقائد کے علاوہ بھی بہت سے عقائد میں اختلاف پیدا کررہے ہیں، آج علماےحق یعنی علماےاہل ِ سنت و جماعت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہے نہ صرف باطل کا منہ توڑ جواب دیںبلکہ ضرورت ہے کہ مدارس میں دینی تعلیم کے سا تھ دنیا وی تعلیم بھی دی جا ئے ،تاکہ علما کی نئی فوج تیاری کے سا تھ پوری طاقت و قوت اورایمانداری سے اپنا فریضہ انجام دیں ۔طلبہ کے اندر یہ جذبہ ابھارا جا ئے کہ وہ اپنے علم پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں تک بھی عمل کی ترغیب دیں۔طلبہ کی صحیح تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ضروری ہے۔ یہ ایک اہم دینی فریضہ ہے ،اس کی ادائیگی کی پوری فکر ہو نی چا ہیے۔ اس ذمے داری میں اساتذہ کے سا تھ اہل ِ علم و دانش اور والدین بھی اپنا اپنا کردار نبھا ئیں ۔خصوصا ً آج کے موجودہ حالات میں تو اس طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، معمولی کو تا ہی و غفلت سے نہایت خطرناک نتا ئج سے دو چار ہو نا پڑے گا ۔ ہندوستان کی جنگ آزادی میں علماے کر ام کا نمایا ں حصہ رہا ہے۔ تاریخ میں علما کی قربا نی موجود ہے، آج ہمارے ملک کے موجودہ عدالتی نظام میں مسلم پرسنل لا (Muslim Personal Law) لاگو ہے ۔یہ علماے کرا م کی ہی دین ہے۔ انگریزی حکومت میں کئی مقدمات ایسے ������ٓئے جس میں ججوں کو فیصلہ کر نا دشوار ہو گیا، علما سے رابطہ کیا اور فیصلہ سنایا۔ اسی و قت علماے کرام نے انگریزی حکومت میں درخواست دی کہ ہمارے مقدمات کا فیصلہ ہمارے مذہبی قانون کے اعتبار سے کیا جا ئے۔ انگریزوں نے منظور کر لیا اور انہوں نے شریعت ایکٹ 1937لاگو کر دیا ۔ 1947 ءمیں ہندوستان کی آزادی کے بعد دستور ساز کمیٹی بنی ،جس کی سربراہی ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کر رہے تھے ،جس میں حضرت مولانا محمد اسماعیل مدراسی، رفیق احمد قدوائی ،مولانا ابو الکلام آزاد، بیگم تجمل حسین اورمولانا عبد القادر نے شریعت ایکٹ 1937ءکو دستور ساز کمیٹی میں رکھا، جسے دستور ساز کمیٹی نے جوں کا توں برقرار رکھا،جس کی بہت سی دفعات ایسی ہیں جو قابل ذکر ہیں علماےکرام کو ضرور مطالعہ کر نا چاہیے مطالعہ فرمائیں (بھارت کا آئین ،نا شر اردو دنیا )
*صحافت ذرائع ابلاغ :*
ذرائع ابلاغ یہ لفظ اپنے اندر بہت وسعت رکھتا ہے ۔پرنٹ میڈیا،الیکٹرونک میڈیا اور سو شل میڈیا انتہا ئی تیز رفتار، انتہائی مؤثراور دیہات سے لیکر شہر تک ،چائے کی دوکان سے لیکر پارلیمنٹ تک اسی کا دور دورہ ہے ۔دینک بھاسکر ہندی اخبار کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا ہندوستان کی82؍فیصد آبادی کو کوریج دے رہا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کی اہمیت ہر زما نے میں رہی ہے، اب تو اس کی اہمیت اتنی ہو گئی ہے کہ حکومتوں کا پورا دارومدار اسی پر ہے ۔ ہر طرح کی پروپگنڈا مہم اسی سے چلائی جا تی ہیں۔ اب تو باقاعدہ حکومتوں نے اس کام کے لیے ایک اہم شعبہ ’’وزرات براے اطلاعات و نشریات ‘‘بنا د یا ہے ۔ یہ وزارت اسی کو دی جا تی ہے جو حکومت کے نظریات کا پوری طرح جا ننے وا لا ہو ۔ اس میدا ن میں علماے کرام دوسروں کے بنسبت بہت ہی پیچھے ہیں۔ مجھے انتہا ئی خوشی ہو رہی ہے کہ اس سلسلے میں ہندوستان کی مشہور خانقاہ ما رہرہ شریف کے عظیم المرتبت سجادگان خصوصاً حضور سید محمد امین میاںقادری اور حضور سید نجیب حیدر میاںنوری کے زیر انتظام البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی،علی گڑھ میں علماےکرام کو صحافت و خطابت کی ٹریننگ دی جا رہی ہے ۔یہ کام بہت ہی اہمیت کا حامل ہے ان شاء اللہ اس کے بہت مثبت نتا ئج بر آمد ہوں گے ۔طلبہسے گزارش ہے کہ فارغ ہو نے کے بعد علم حاصل کر نے کی بھوک ہمیشہ قائم رکھیں ۔اللہ رب العزت نے اپنے محبوب رسول ﷺ کو حکم فر مایا:
’’وَقُلْ رَّبِّیْ زِدْنِیْ عِلْما‘‘(القرآن سورہ طٰہٰ، آیت :114)
اور تم عرض کرو اے میرے رب مجھے زیادہ علم دے ۔
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرما تے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے علم حاصل کر نے کی فضیلت واضح طور پر ثابت ہو تی ہے اس لیے خداے تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺکو علم کے علاوہ کسی دوسری چیزکی زیادتی طلب کر نے کا حکم نہیں فر مایا (فتح الباری شرح بخاری جلد اول ص 613تفسیر رو ح المعانی )
مطالعہ کو اپنی پسندیدہ عادت بنا لیں ۔کم از کم دن میں تین گھنٹے ضرور مطالعہ فرمائیں ۔تقابلی مطالعہ ضروری ہے تا کہ اپنے عقائد کے خلاف جو بات جا نیں تو اس کا جواب دے سکیں ۔کم از کم ایک گھنٹہ اخبارات کا مطالعہ کریں، حا لات حاضرہ کی جانکاری رکھیں، مضامین لکھتے وقت لفظوں اورالقابوں پر دھیان رکھیں، کس کے لیےیہ لقب موزوں رہے گااور کس کے لیے نہیں ،اس کا ضرور خیال رکھیںاور گاڑھی اردو نہ استعمال فرمائیں ۔ مضمون میں حوالہ بہت ضروری ہے ۔
یا د رہے کہ دعوت دین کے را ستے میں بہت طرح کی رکاوٹیں ،نامعقول سوالات ،جھوٹے الزامات اور فریب کا ریا ں سا منے آ تی ہیں ،ان رکاوٹوں کا مقابلہ ہمت سے کر یں اور ثبوت کے لیے قرآن مجید کا حوا لہ دیں۔قر آن مجید انسانوں کے دلوں کو مسخر کرتا ہے ،جھوٹ اور فریب کا پردہ چاک کرتا ہے۔ احادیث مبارکہ، صحابہ ٔ کرام اوربزرگان ِ دین کے اقوال سے بھی جواب دیں ۔لیکن حوا لہ ضرور دیں ۔خاص کر احادیث کا نمبر ضرور دیں ۔کیوں کہ ہمارا مقابلہ دوطرفہ ہے ۔ اس وقت دنیاوی دولتوں سے مالا مال نام نہاد اہل ِ حدیث طبقہ حوا لہ سے کم پر راضی نہیں ہو تا اور خود حوالہ نہیں دیتا۔اپنی نجی زندگی کے لیے جو وقت دیتے ہیں ،تمام ضرورتوں کے لیے اس میں دعوت دین کے لیے کم از کم تیس فیصد و قت وقف کر دیں ۔یہ آپ کا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے ۔آپ کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو اللہ کے احکام و مسائل سے آگاہ کریں ،ان میں اسلامی طرز زندگی پیدا کر نے کی کوشش کریں ،ان کے سوالات کا معقول جوا ب دیں ،جو افراد گناہوں میں سراپا ڈوبے ہو ئے ہیں ان سے شفقت و محبت سے ملیں اور مسلسل محنت و غورو فکر کریں۔ جیسے ہمارے بزرگ علماےکرا م کرتے رہے ہیں کہ کسی طرح اگر دو مسلمانوں میں لڑا ئی ہو جا ئے تو حکمت ودانائی ،خوش اسلوبی ،خلوص، محبت اور اچھی تد بیر سے ان کے درمیان صلح کرائی جائے۔ اگر کو ئی مصیبت زدہ ہو تو اس کی دل جو ئی کریں ،اس کو تسلی و تشفی دیں، ہر شرارت و فتنہ کو پہلے ہی دبا دیں نہ کہ خود اس کا حصہ بن جا ئیں ،جیساکہ آج کل ہو رہا ہے ۔عوام آج بھی علماے کرام کے زیر اثر ہیں ،ان کا تقویٰ دیکھ کر ان کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ ایک انتہا ئی ضروری بات طلباے کرام سے عرض کرنا ہے کہ آپ فارغ ہو نے کے بعد اپنے مادر علمی اور اساتذۂ کرا م سے رشتہ نہ توڑیں، ان سے قلبی لگا ؤ رکھیں، اپنے مادر علمی اور اساتذۂ کرام کی گاہے بگاہے مالی خدمت کرتے رہیں۔ کبھی بھی اساتذہ کرام کی عزت کر نے میں کوتا ہی نہ برتیں،غرور گھمنڈ نہ دکھا ئیں ،عزت و ذلت اللہ کے ہا تھ ہے ۔لیکن ماں باپ، اساتذہ کی عزت پا مال کر نے سے عزت و شہرت ملیا میٹ ہو نے میں دیر نہیں لگتی ۔ اللہ پاک ہمارے علم میں برکت اوراساتذۂ کرام کی دعاؤں سے علم وعمل میں اضافہ فرمائے ۔اللہ ہم سب کو دعوت دین کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین!ثم آمین!!

09279996221

hhmhashim786@gmail.com

حا فظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب و امام مسجد ھا جرہ رضویہ اسلام نگر کپا لی وایا مانگو جمشید پور پن کوڈ 831020 جھاڑ کھنڈ

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading