معصوم عظیم کا قتل ، منظم نسل کشی کا ایک حصہ:قومی صد رامام کونسل

ملک کو فرقہ وارانہ زہریلے جراثیم سے پاک کرنے کے لیے تمام ہندستانیوں کو روڈ پر آنا پڑے گا۔ قومی ترجمان

نئی دہلی:26اکتوبر ۔(پریس ریلیز) آل انڈیا امامس کونسل نے قومی کے صدر مولانا محمد احمد بیگ ندوی نے مالویہ نگر بیگم پور دہلی میں ۸۸۹۱ئ، سے قائم مدرسہ جامعہ فریدیہ کے آٹھ سالہ معصوم طالب علم محمد عظیم کے قتل کی پر زور الفاظ میں مذمت کی اور اس کو منظم نسل کشی کا ایک حصہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ : ”جب سے بی جے پی کی مرکز میں حکومت بنی ہے نفرت کا زہر پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ جس کا اثر ہر جگہ نظر آرہا ہے ۔ جس کی وجہ سے نسل کشی اور قتل و غارت گری میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ مردوں کے ساتھ عورتیں میں بھی نفرت پھیلانے میں سر چڑھ کر بولنے لگی ہےں“۔ قومی صدر مولانا احمد بیگ نے کہا کہ: ”معصوم عظیم کے قتل کے بعد محلے کی مغرور خاتون سروج کا یہ کہنا کہ: ابھی تو ایک ہی مرا ہے آگے دیکھوں ہم کیا کیا کرتے ہیں، ماحول کو مزید خراب کرنے کی سازش کا پتہ دیتا ہے ۔حیرت کی بات تو یہ ہے اس علاقے میں پولیس کو کئی دفعہ اس طرح کے معاملہ کی شکایت کی گئی ہے؛ مگر انھوں نے اس طرف توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس قتل کے پیچھے اور کون کون عناصر شامل ہو سکتے ہیں“۔ کونسل کے قومی ترجمان مفتی حنیف احرار سوپولوی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مثاثرمعصوم عظیم کے وارثین کو ایک کروڑ کا معاوضہ دے اور محرک خاتون سروج، قاتل اور اس سازش میں شامل تمام عناصر کو سخت قانونی سزا دے۔ نیز آل انڈیا امامس کونسل حقوق انسانی کے علم برداروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس طرح کی نسل کشی کے خلاف تمام ہندستانی شہریوں کو لے کر روڈ پر اُتریں ؛ تاکہ ظالم اور قاتل کوجرم کی سزا مل سکے اور اس طرح کے کا روائی پر قدغن لگ سکے“۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading