معروف سوشل اکٹویسٹ علی سہراب (کاکاوانی) دہلی سے گرفتار

ٹوئٹر پر ٹرینڈ، فوری رہائی کا مطالبہ، گرفتاری آئینی آزادی کے خلاف : کاروان
نئی دہلی۔۱۶؍نومبر: یوپی پولس نے دہلی پولس کے تعاون سے معروف سوشل اکٹویسٹ علی سہراب کاکاوانی کو گرفتار کرلیا ہے ۔ ان کے خلاف لکھنو میںکملیش تیواری کے مرڈر کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ علی سہراب ٹوئٹر پر بہت فعال رہا کرتے تھے اور آر ایس ایس ،بی جے پی کی پالیسیوں کی کھل کر مذمت کرتے تھے۔لوگوں کا ماننا ہے کہ علی سہراب تنہا بی جے پی اور آر ایس ایس کی پوری ٹرول آرمی پر بھاری پڑتے تھے اور اسی لئے حکومت کے اشارے پر پولس نے انہیں گرفتار کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق علی سہراب کاکاوانی کو دہلی میں واقع ان کے گھر آنند نگری سے پولس نے گرفتار کیا ہے ۔ دن کے بارہ بجے سول ڈریس میں بارہ سے پندرہ پولس اہلکار ان کے گھر پہونچے اور کہاکہ آپ سے کچھ بات کرنی ہے ہمارے ساتھ چلیے ، اس کے بعد دہلی پولس نے یوپی پولس کے حوالے کردیا ۔ اتر پردیش پولس انہیں لکھنؤ لیکر گئی ہے ۔

دوسری طرف #ReleaseAlisohrab ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئٹر پر ہزاروں کی تعداد میں ٹوئٹ کئے جارہے ہیں کہ علی سہرا ب کو رہا کیا جائے ۔ جس وقت یہ خبر لکھی جارہی ہے علی سہراب ٹوئٹر پر نمبر ون ٹرینڈ کررہے تھے اور ان کی حمایت میں ایک لاکھ ۳۰ ؍ہزار سےزائدٹوئٹس ہوچکے تھے۔ واضح رہے کہ ‎علی سہراب کے فیس بک فالورس ایک لاکھ سے زائد ہیں وہیں ٹوئٹر پر ۶۱؍ہزار سے زائد افراد انہیں فالو کرتے ہیں۔ وہ نومسلم ہیں اور بےلاگ تجزیہ کار ہیںاپنی اسلام پسندی، حمیت دینی، اور ظالموں کے خلاف اظہار حق کے لیے مشہور ہیں۔وہ بیرون ممالک معاش کےلیے رہتے ہیں فی الحال اپنے گھر آئے ہوئے تھے۔ ان کی گرفتاری پر کاروان امن وانصاف کے جنرل سکریٹری سمیع اللہ خان نے کہاکہ ’’اگر ایسے تجزیہ نگاروں اور ایکٹوسٹوں کو بھی گرفتار کیا جانے لگا ہے تو کیا ہم اب اس گرفتاری کو ملک میں زبانوں پر تالے ڈالنے کے تاناشاہی سَنگھی فرمان کی کھلی ہوئی پہل نا سمجھیں؟

جب دنیا بھر میں انسانوں کو حکمرانوں پر تنقید اور ظالموں کے خلاف اظہار حق کی آزادی ہے تو ہندوستان کے یہ جن سنگھی حکمران اسقدر کیوں بدک رہےہیں؟ قلم اور زبان سے سماج میں بیداری لانے والوں کو ٹارگٹ کرنے کا کیا مطلب ہے؟کیا ہندوستان میں سچائی جرم کےزمرے میں داخل ہوچکی؟ حکومتوں کو بےباک اہل قلم سے اتنا خوف کیوں۔؟ بنیادی طورپر موصوف کے خلاف کیا چارجز لگائے گئےہیں اسے تو آئین اور عدالت ہی طے کریں گے، لیکن انصاف اور سچائی کی اس جنگ میں ہم علی سہراب کے ساتھ ہیں، کاروان امن و انصاف کی نظر میں علی سہراب کی گرفتاری صحافیوں کی آزادی اور باشندگانِ ہند کے دستوری و انسانی حقوق کے خلاف ہے، یہ ملک میں اہلِ حق کے لیے اچھی علامت نہیں ہے‘‘۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading