🏻 شعیب اشرف(مالیگاؤں)
آج کے اس دور پر فتن میں جبکہ ہرطرف نفسہ نفسی کا عالم ہے، مسلمان گناہوں میں ڈوبتا جا رہا ہے ۔ اغیارکی للکار نے ہمارےضمیرکو وقتی طورپرجھنجھوڑا تو ضرورمگر دنیا کی چاہ، منصب و رتبے کا غرور ،دھن دولت کی ہوس اور نام ونمود کی خواہش نے ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ۔ دشمنانِ اسلام قومِ مسلم کوگمراہیت کہ دلدل میں ڈبونے کے لئے نت نئے حربے استعمال کر رہے ہیں، قوم کے عظیم مجاہد اور عظمت اسلام کے پاسبان سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ” صلیبی اور یہود و نصاریٰ کا مقصد دنیا سے مسلمانوں کا نام و نشان ختم کرنا ہے، ان کا سب سے آسان حربہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو کردار سے عاری کیا جائے، ان کے دلوں سے ایمانی جذبے کو ختم کیا جائے اور اس کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو نشہ، شراب ، دولت اور عورت کا دلدادہ بنادیا جائے مسلمان قوم خود بخود ختم ہو جائے گی "۔ مورخین لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی نے کہا تھا کہ میں قوم مسلم کو ایک وسعت کرنا چاہتا ہوں کہ کبھی بھی کسی غیر مسلم پر بھروسہ مت کرنا اس کی باتوں میں مت آنا کے قدم قدم پر ایمان جانے کا خطرہ لاحق ہے” ۔
شاید آج اس مرد مجاہد کی باتیں سچ ثابت ہو رہی ہیں، نوجوان نسل ملک و ملت کا عظیم سرمایہ ہوتی ہیں، جن پر ملک و قوم کی ترقی و تنزلی موقوف ہوتی ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ نوجوانوں کی تباہی، قوم کی تباہی ہے، اگر نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو جائیں تو قوم سے راہ راست پر رہنے کی توقع بے سود ہے، اللہ رب العزت کو نوجوانی کی عبادت بہت پسند ہے لیکن آج حال اس کے بلکل الٹ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ نوجوان قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں اور جس قوم کے نوجوانوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے وہ قوم تباہی کے راستے پر چل پڑتی ہے ۔ نوجوانوں کی اخلاقی تربیت صرف والدین، علماء کرام یا اساتذہ کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ خود نوجوانوں میں بھی اس بات کا احساس پیدا ہونا چاہیے کہ وہ کس راہ پر گامزن ہیں، اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے ۔
ٹیکنالوجی کے اس دور میں جبکہ زندگی کی رفتار تیز ترین ہو گئی ہے، آج ہم میلوں کا سفر چند گھنٹوں میں طے کر سکتے ہیں، سات سمندر پار اپنے عزیزوں سے اسمارٹ فون کے ذریعے نہ صرف باتیں کر سکتے ہیں بلکہ انہیں دیکھا بھی جا سکتا ہے مگر آج اسی اسمارٹ فون کے ذریعے فحاشی و بدکاری عام ہو چکی ہے، ہر چیز کا استعمال چاہے وہ ٹیکنالوجی ہو یا کچھ اور، اپنی حد میں رہ کر کیا جائے تو اس کے فوائد بے شمار ہیں لیکن زیادہ استعمال سے نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں ۔ یہی حال قوم مسلم کا دکھائی دے رہا ہے، سوشل میڈیا کا بے جا استعمال نہ صرف ہمارے کردار کو پستی کی طرف دھکیل رہا ہے بلکہ ہماری صحت پر بھی اس کے مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ چاہے وہ فیس بک ہو یا واٹس ایپ یا کچھ اور، ان چیزوں کا استعمال صحیح ڈھنگ سے کیا جائے تو فائدہ پہنچ سکتا ہے مگر بے جا استعمال برائیوں کو جنم دیتا ہے ۔ ایسے سافٹ ویئرز مسلمانوں کی کردار کشی کرنے کا ایک سب سے آسان ذریعہ بن گئے ہیں، ان ویب سائٹس پر نہ صرف فحاشی اور بدکاری عام ہوتی ہے بلکہ ان پر طرح طرح کی مذہبی گستاخیاں بھی کی جاتیں ہیں جن سے ایمانی جذبات مجروح ہوتے ہیں، اس کے باوجود اس طرح کے ایپلیکیشنز اور ویب سائٹس مسلم نوجوانوں میں بہت مقبول ہیں، اس میں مبالغہ نہیں ہوگا کہ ہر پانچ میں سے چار، ان چیزوں کا استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ ایسی ویب سائٹس کا استعمال کردار اور وقت دونوں کی بربادی ہے، ایسے ہی کچھ اپلیکیشنز میں "TIK TOK” نام کا ایک ایپ ہے جو آج کل مسلم نوجوانوں میں بہت مقبول ہو رہا ہے۔
کیا ہے آخر یہ TIK TOK ؟
دراصل یہ ایک ایسا ایپلیکیشن ہے جس کے ذریعے فلمی اداکاروں کی طرح اداکاری کی جاتی ہے اور موسیقی پر رقص کرتے ہوئے ویڈیو بنا کر دکھایا جاتا ہے ، نوجوان لڑکے لڑکیاں ہر وہ کام کرتے دکھائی دیتے ہیں جو غیر مسلموں کا شیوہ ہے اور جسے شریعت اسلامیہ نے سختی سے منع فرمایا ہے، فحش تصاویر اور مناظر دکھائے جاتے ہیں اور بھی بہت کچھ بیہودہ چیزیں دکھائی جاتی ہیں جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، اس ایپلیکیشن کی وجہ سے نوجوان طبقے میں جرائم کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، حیرانگی تو تب ہوئی جب اس ایپ پر مسلم لڑکیاں بھی وقت گزاری کرنے لگیں اور ایسے ایسے ویڈیو تیار کرنے لگیں جس میں فلمی اداکاراؤں کی طرح رقص اور اداکاری کی جاتی ہے ۔ اس اپلیکیشن پر کیا نوجوان کیا بچے اور کیا بوڑھے ہر کوئی دیوانگی کی حد تک اپنا وقت برباد کر رہا ہے، لوگ مزے لے لے کر اس پر گندے مناظر اور فلمیں دیکھ رہے ہیں ۔ للہ اپنے حال پر رحم کریں، اپنے ضمیر کو جھنجھوڑیں، کیا ہمارے آقا و مولیٰ مصطفیٰ جانِ ﷺ کی پیاری سیرت مبارکہ ہمیں یہی تعلیم دیتی ہے؟ معاذاللہ..!کیا ہمارے اسلاف نے ہمیں یہ سکھایا ہے؟ آخر ہم اتنے غافل کیسے ہو گئے کے صحیح اور غلط کی تمیز بھول گئے، یہود و نصاریٰ اور انگریزوں کی سازشوں کو سمجھ نہ سکے؟
آج مسلمان طرح طرح کی پریشانیوں اور مصائب میں مبتلا ہیں، ہر طرف مسلمانوں کو ستایا جا رہا ہے فرقہ پرستوں نے جینا محال کر دیا ہے، آج وقت ایسا آگیا ہے کہ کہیں بھی ہم جائیں تو اپنا آپ محفوظ نظر نہیں آتا، لوگوں کی نفرت آمیز نگاہوں اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان ساری باتوں کی وجوہات معلوم کی جائے تو کہیں نہ کہیں ہم ہی قصور وار ٹھہریں گے کیونکہ ہم نے اپنے کردار کو اس قدر کچا بنا دیا ہے کہ جسے چاہے توڑ کر چلا جائے، نبی کریم ﷺ کے فرامین اور سیرت پرعمل نہ کرنا ہماری پستی کی سب سے اہم وجہ ہے، زرا سوچیں کے کہیں ہم اپنے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے احکامات کو فراموش کر کے آپ ﷺ کا دل تو نہیں دکھا رہے ہیں؟ اللہُ اکبر!… جو قوم نبی ﷺ کا دل دکھائے وہ قوم کیسے خوش رہ سکتی ہے؟ کردار کی اصلاح کریں، اپنے گھروں سے کریں، والدین اپنے بچوں کو بلا ضرورت ایسی آزادی نہ دیں کہ آگے چل کر آپ کو ہی ذلت و رسوائی اٹھانی پڑے، اپنے بچوں پر نظر رکھیں، انہیں وقت دیں، جہاں تک ہو سکے کم عمری سے اپنے بچوں کو اسمارٹ فون کی لت سے بچائیں، انہیں اسمارٹ فون کے بے جا استعمال کے نقصانات سے آگاہ کریں، دینی تعلیم سے آراستہ کریں، کہیں ایسا وقت نہ آ جائے کے دشمنانِ اسلام ہم پر غالب آجائیں اور اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہو جائیں ۔