مسلم ریزرویشن پر وزیراعلیٰ فڑنویس کا گمراہ کن بیان :نسیم خان- مہاراشٹر حکومت نے مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے سے انکار کیا

ممبئی ،27جون: مہاراشٹر کی بی جے پی قیادت والی حکومت مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ریزویشن نہیں دے سکتی ہے ،ریاستی وزیراعلیٰ دیویندرفڑنویس کے اس بیان کو ریاست کے اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر محمد عارف نسیم خان نے گمراہ کن قراردیا ہے۔اور کہا کہ ریاستی حکومت محض فرقہ پرستی کی بنیاد پر مسلمانوں کو ریزرویشن سے محروم رکھنا چاہتی ہے جبکہ سابقہ کانگریس حکومت نے مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیاتھا نیز بمبئی ہائی کورٹ نے بپی اسے منظوری دیکر تعلیمی میدان میں مسلمانوں کوپانچ فیصدریزرویشن دیئے جانے کے لیے ہری جھنڈی دکھلائی تھی۔

مہاراشٹراسمبلی میں مراٹھا برادری کو دیئے گئے ریزرویشن کو بمبئی ہائی کورٹ سے توثیق ملنے پر منعقدہ تہنیتی قراردادکے دوران وزیراعلیٰ فڑنویس نے مسلم ریزرویشن کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت میں جن برادریوں کو یہ سرکاری مراعات حاصل ہوئی ہے ،انہیں ان کی سماجی اور دیگر پسماندگی کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہے ،نیز مسلمانوں ان کے مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دیا نہیں جاسکتا ہے۔

اس موقع پر ڈپٹی لیڈر نسیم خان نے اعتراف کیا اور کہا کہ حکومت اس معاملہ میں گمراہ کن رُخ اختیار کی ہوئی ہے،جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔تاہم کانگریس حکومت نے مسلمانوں کو ریزرویشن دیا تھا ،وہ عین قانون کے مطابق تھا ،یہی وجہ ہے کہ بمبئی ہائی کورٹ نے بھی اس کو منظورکیا تھا۔

اس تعلق سے انہوںنے اخباری نمائندوں سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ موجودہ حکومت مسلمانوںکو ریزرویشن دینا نہیں چاہتی ہے اور اس ضمن میں گزشتہ متعدد مرتبہ ”گول مول “جواب دیکر آج بالآخروزیراعلیٰنے مسلمانوں کو ریزرویشن دیئے جانے سے انکار ہی کردیا ہے۔نسیم خان نے کہا کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دیئے جانے سے قبل ریاست میں حکومت نے محمودالرحمن کمیٹی تشکیل کی تھی جس نے ریاست میں مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد مسلمانوں کو سماجی پسماندہ قراردیکرریزرویشن دینے کی سفارش کی تھی ،اس سے قبل سچر کمیٹی بھی اسی طرح کی سفارشات کرچکی تھی ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading