مراٹھاسماج کی مضبوط جدوجہد کی وجہ سے ہی ریزرویشن ممکن ہوسکا
ممبئی: مراٹھابرادری کے ریزرویشن پرممبئی ہائی کورٹ کی مہرمراٹھا سماج کی جیت ہے ۔ لاکھوں کی تعداد میں مراٹھا سماج کے لوگوں نے سڑکوں پر اتر کر پرامن طریقے سے احتجاج ومظاہرہ کیا ۔ یہ ریزرویشن ان کی قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے ۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک چوہان نے کہی ہیں ۔ ممبئی ہائی کورٹ سے مراٹھا ریزرویشن پر مہرلگائے جانے کے بعد وہ یہاں میڈیا سے خطاب کررہے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں مراٹھاریزرویشن کے بل کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے مثبت کردارادا کیا تھا، اس لئے عدالت کے ذریعے اس پر مہر لگائے جانے کا کانگریس استقبال کرتی ہے ۔ اشوک چوہان نے کہا کہ ریزرویشن کے حصول کے لئے سکل مراٹھا سماج نے ریاست میں58مورچے نکال کر تاریخ رقم کی ۔ تقریباً 40 نوجوانوں نے اس کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دی، جس کے بعد بی جے پی حکومت پر دباوَ قائم ہوا اور اسمبلی میں متفقہ طور پر مراٹھا ریزرویشن بل منظور ہوسکا ۔ ممبئی ہائی کورٹ نے بھی مراٹھا ریزرویشن کے تاریخی فیصلے پر اپنی مہر لگادی ہے، جس کی ہ میں خوشی ہے ۔ اشوک چوہان نے کہا کہ مراٹھا سماج کو تعلیم وملازمت میں16فیصد ریزرویشن دینے کا بنیادی فیصلہ کانگریس واین سی پی حکومت کے دور میں کیا گیا تھا ۔ رانے کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر اس وقت کی کانگریس واین سی پی حکومت نے آرڈیننس جاری کرکے مراٹھا ریزرویشن لاگو کیا تھا ۔ اس کے بعد ریاست میں اقتدار تبدیل ہوگیا اورنئی حکومت نے مراٹھا ریزرویشن سے متعلق دلچسپی نہیں دکھائی جس کی وجہ سے مراٹھا سماج کو سڑکوں پر اترنا پڑا ۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اسمبلی میں مراٹھابرادری کو ریزرویشن دیئے جانے کا مضبوط موقف اپنا کر اس سے متعلق بل کو متفقہ طور پر منظور کیا ۔
اشوک چوہان نے کہا کہ مراٹھاریزرویشن کے ساتھ ہی دھنگر ومسلم برادری کے ریزرویشن سے متعلق بھی ریاستی حکومت کو فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہئے ۔ کانگریس واین سی پی حکومت نے مسلم برادری کے پسماندہ لوگوں کوتعلیم وملازمتوں میں ۵ فیصد ریزرویشن دیا تھا، جس پر عدالت نے بھی اپنی رضامندی ظاہر کی تھی اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ۔ اس کے باوجود موجودہ حکومت نے اس ریزرویشن کولاگونہیں کیا ۔ بی جے پی نے دھنگر سماج کوریزرویشن سے متعلق جو یقین دہانی کرائی تھی، اس نے اس پر بھی عمل نہیں کیا ۔ دھنگر سماج کے ریزرویشن کے بارے میں بی جے پی نے 2014 کے ریاستی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ حکومت بننے کے بعد پہلی کابینہ میں ہی اس سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت مسلم ودھنگربرادری کے ریزرویشن سے متعلق بھی فوری طورپر اپناموقف واضح کرے ۔