
وقارآباد، تلنگانہ۔۶؍اگست: ( سید عمران) ملک کے مختلف مقامات پر چندمسلم لڑکیوں کی بے راہ روی اور غیرمسلم لڑکوں کیساتھ شادی کے واقعات کی اطلاعات اور انکی روزآنہ سوشیل میڈیا پر وائرل ہوتی خبریں قوم کے علماکرام ، قائدین ، دانشوران اور ذمہ داران کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے! ایسے ہی ایک معاملہ میں ریاست تلنگانہ کے ضلع وقارآبادمستقر میں ایک غیر مسلم لڑکے کے ساتھ شادی کرنے والی ایک مسلم خاتون کے چال و چلن پر شبہ کرتے ہوئے خاتون اور اسکے دو معصوم بچوں کااس کے غیر مسلم شوہر نے انتہائی بیدردی کیساتھ قتل کرنے کے بعد پولیس اسٹیشن پہنچ کر خود کو پولیس کے حوالے کردیا وقارآباد کی موتی لال کالونی میں گزشتہ نصف شب کے بعد پیش آئے اس بہیمانہ واقعہ کی مکمل تفصیلات ڈی ایس پی وقارآباد سیتا رام نائیک ، مقامی افراد اور مقتولہ کی ماں کیجانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق لنگم پلی کی ساکن چاندنی 30؍سالہ نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر 2014ء میں اپنے شوہر سے طلاق حاصل کرتے ہوئے لنگم پلی اسٹیشن ہی کے ساکن پروین کی محبت میں گرفتار ہوتے ہوئے اس سے شادی کرلی تھی پروین کا تعلق ایس سی طبقہ سے بتایا جاتا ہے اس وقت چاندنی کو پہلے شوہر سے ایک پانچ سالہ لڑکا ایان بھی تھا پانچ سال قبل اس بین مذہبی شادی کی لڑکی کے مسلم خاندان والوں نے مخالفت کی تھی اور لڑکی سے تعلق توڑلیا تھا بعد ازاں اس جوڑے کو ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام اینجل رکھا گیا یہ جوڑا گزشتہ سال سے وقارآباد کی موتی لال کالونی کے ایک کرایہ کے مکان میں مقیم تھا ۔

چاندنی وقارآباد کے ایک یتیم خانہ کے اسکول میں ٹیچر کی ملازمت کررہی تھی اور اس کا شوہر پروین ایک مقامی کمپنی میں سوپر وائزر کی ملازمت کررہا تھا بتایا جاتا ہیکہ پروین کو اپنی بیوی چاندنی کے چال و چلن پر شبہ ہوگیا تھا اور چاندنی کے کسی شخص سے موبائل پر بات کرنے کے مسئلہ پر دونوں میں جھگڑا چل رہا تھا گزشتہ نصف شب کے بعد پروین اور چاندنی میں اسی مسئلہ پر بحث و تکرارشروع ہوگئی اسی دوران برہم پروین نے لوہے کے راڈ سے چاندنی کو مارنے لگا تو دونوں بچے درمیان آگئے تو اس ظالم درندہ صفت انسان نے لوہے کے راڈ سے اپنی بیوی چاندنی 30؍سالہ ، بیٹا ایان 10؍سالہ اوربیٹی اینجل 5؍سالہ کو انتہائی بے رحمانہ انداز میں قتل کردیا۔ اپنی بیوی اور دو بچوں کے قتل کے بعد پروین وقارآباد کے پولیس اسٹیشن پہنچ کر اعتراف قتل کرتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالے کردیا اسکے اعتراف پر پولیس بھی سکتہ میں آگئی وقارآباد پولیس نے لنگم پلی میں مؤجود مقتولہ چاندنی کے افراد خاندان کو اس واقعہ کی اطلاع دی جسکے بعد مقتولہ کی والدہ منیرہ بیگم اور دیگر افراد خاندان وقارآباد پہنچے اس موقع پر مقتولہ کی ماں نے بتایا کہ اس بین مذہبی شادی کے بعد سے کئی سال تک انکی بیٹی سے کوئی رابطہ نہیں تھا تاہم گزشتہ سال انکی بیٹی چاندنی نے انہیں فون کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ ، اس کا شوہر اور بچے سعودی عرب میں مقیم ہیں بعد ازاں کبھی کبھار مقتولہ انہیں فون کرلیا کرتی تھی اور یہی کہتی تھی کہ وہ لوگ سعودی عرب میں ہیں ۔ڈی ایس پی وقارآباد سیتا رام نائیک نے جائے مقام پر پہنچ کر تینوں نعشوں کا مشاہدہ کیا بعد پنچنامہ پولیس نے نعشوں کو بغرض پوسٹ مارٹم وقارآباد کے سرکاری اسپتال منتقل کیا ڈی ایس پی نے میڈیا کو بتایا کہ اس قتل کے واقعہ کی تمام زاویوں سے تحقیقات انجام دی جائیں گی تاہم شوہر نے اعتراف کیا ہیکہ اس نے بیوی کے چال و چلن پر شبہ کرتے ہوئے ہی یہ انتہائی اقدام کیا ہے وقارآباد میں خاتون اور دو معصوم بچوں کے باپ کے ہاتھوں بیدردانہ قتل کی اطلاعات عام ہوتے ہی غم و غصہ کی لہر دوڑگئی ۔ وقارآباد پولیس ایک کیس درج رجسٹر کرکے مصروف تحقیقات ہے