جبل پور:مدھیہ پردیش کے جبل پور میں ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے ۔ خبر ہے کہ یہاں ایک عالیشان فلیٹ میں جسم فروشی کا دھندہ چل رہا تھا ، جہاں پولیس نے ایک ہندتوادی تنظیم کی اطلاع پر چھاپہ ماری کی ۔ تاہم اس کیس میں پولیس کے ہوش اس وقت اڑ گئے جب انہیں پتہ چلا کہ اس سیکس ریکیٹ میں سامنے آئے ہندو ملزمین اصل میں مسلمان ہیں ۔
دراصل وجے نگر ایم آر چار روڈ پر واقعہ مسکان پلازہ میں پولیس نے ایک فلیٹ سے چار لڑکے اور لڑکیوں کو حراست میں لیا ۔ ہندوتوادی تنظیم نے پولیس سے شکایت کی تھی کہ فلیٹ میں رہ کر کچھ لڑکے اور لڑکیاں سیکس ریکیٹ چلا رہے ہیں ، جس کے بعد پولیس نے فلیٹ میں چھاپہ ماری کی کارروائی کی اور سیکس ریکیٹ کا پردہ فاش کیا ۔
وجے نگر پولیس نے جائے واقعہ سے حراست میں لئے گئے لڑکے اور لڑکیوں کو خاتون تھانہ کے سپرد کردیا ، جن سے پوچھ گچھ کی گئی ۔ ملزم خاتون نے اپنے بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کا اصلی نام نازنین ہے اور اس کے شوہر کا نام امتیاز ہے جو ہندو بن کر یہ دھندھا کررہے تھے ۔ دونوں مل کر مہینوں سے یہ سیکس ریکیٹ چلا رہے تھے ۔ پولیس نے سبھی کے موبائل ضبط کرلئے ہیں اور ان کی کال ڈیٹیل کھنگالی جارہی ہے ۔(بہ شکریہ نیوز18اردو)