نیشنل سمپل سروے آف انڈیا کی این ایس ایس او کے 68 ویں راؤنڈ ہندوستان کے بڑے مذہبی کمیونٹی میں تعلیمی سطحوں اور ملازمت کے اشارے کا تخمینہ فراہم کرتا ہے رپورٹ 2018 میں آئی تھی جس میں میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی طاقت ہونے کے باوجود، مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی حالت میں بہتری کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے ۔
مختلف مذہبی گروہوں کی بنسبت ، ہم مسلمانوں کی تعلیمی حالات کے اعدادوشمار کا تجزیہ کریں گے،جس میں میں سیکنڈری ہائر سیکنڈری گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن میں مسلمانوں کی حصہ داری کا تجزیہ اعداد و شمار کی عینک سے کریں گے۔

شہری علاقوں میں مسلم پوسٹ گریجویٹ افراد کی اوسط تعداد فی 1000 میں 15 ہے۔ یہ اعدادوشمار کسی بھی بڑے مذہبی گروہ سے موازنہ کیا جائے تو اس کی بنسبت 4گنا کم ہے جن میں ہندو سکھ عیسائی شامل ہیں۔
مسلمانوں میں گریجویٹ افراد کی تعداد فی 1000 میں 71 ہے یہ عدد کسی اور بڑے مذہبی گروہ کے تعداد کے نصف سے بھی کم ہے ۔ یہی حالت مسلم خواتین کی بھی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں میں سکنڈری اسکول تک پڑھنے والی خواتین ایک ہزار میں 162 اور ہائیرسیکنڈری تک پڑھنے 1000میں 90 ہیں جو پھر سے کسی بھی بڑے مذہبی گروہ کی بنسبت کم ہے۔
مسلمانوں میں پندرہ سال سے اوپر والی آبادی میں تقریبا نصف سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ ہیں یا پھر صرف اپنی پرائمری ایجوکیشن مکمل کیا ہوا ہے۔
کل مسلمانوں میں میں غیر تعلیم یافتہ لوگوں کا تناسب سب سے زیادہ %43 فیصد، مطلب تعلیم یافتہ لوگوں کا تناسب %57 ہے۔ جو کہ پھر سے کسی بھی بڑے مذہب کے متناسب میں سب سے کم ہے ۔ اسی طرح یہ عدد سکھوں میں %67.5 ، بدھ مذہب میں%71.8 ، عیسائیوں میں %74.3، فیصد ہے.اور جین میں سب سے زیادہ %84.7 پڑھے لکھے لوگ ہیں۔
مسلمانوں میں ایسے افراد کے اعدادوشمار جنہوں نے محض پرائمری یا سیکنڈری اسکول تک تعلیم حاصل کی ہے وہ فی ایک ہزار میں 257 اور 198 بالترتیب ہے اور یہ دوسرے گروہوں کی بنسبت سب سے کم ہے۔
اسی طرح پندرہ سال سے کم مسلمان آبادی کا پرائمری ایجوکیشن میں "حاضری کی شرح” سب سے کم ہے جو فی ایک ہزار میں 829 افراد ہے ،جو کہ عیسائیوں میں سب سے زیادہ981 ہے سکھوں میں 971 اور ہندوؤں میں955 ہے.
مسلمانوں کی حاضری کی شرح 829 اور دوسرے گروہوں کے فرق کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مطلب یہ کہ دیگر مذاہب کی ترقی بڑھتی جارہی ہے اور ہماری ترقی کی شرح میں میں گراوٹ آتی جا رہی ہے۔
مسلمان اچھی تعلیم حاصل کرنے سے بھی محروم رہ جاتے ہیں عام طور پر اچھی تعلیم ، معاشی حالت پر مبنی ہوتی ہے اور مسلمان معاشی اعتبار سے "کمائی فی دن” میں پیچھے ہیں اور این ایس ایس او کے سروے کے مطابق مسلمانوں میں خرچ کا اوسط محض 32 روپیے فی فرد ہے،جو تمام مذاہب کی نسبت کم ہے یہ تناسب عیسائیوں میں 51.5 سکھوں میں میں 55 روپیے یے , ہندوؤں میں 37.5 پانچ روپے ہے۔ این ایس ایس او کے مطابق ٹیکنیکل, سرکاری یا پرائیویٹ کالجوں کی اوسط فی25000 ہزار 64800 بلترتیب ہوتی ہے جو کہ ان کی اوسط آمدنی سے بہت زیادہ ہے۔
عام طور پر مسلمانوں میں تعلیم کی شرح کم ہوتی ہے، اور اگر تعلیم حاصل کر بھی لی تو معمولی تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے اچھا روزگار مل پانا بہت مشکل ہو جاتا ہےجس کی وجہ سے خراب معاشی حالات سے ابھر نہیں پاتے، یہی وجہ رہی ہے کہ جس کی وجہ سے مسلمان غریبی کے جال میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔ غیر تعلیم یافتہ ہونے کا اثر سیدھے ان کے روزگار پر پڑتا ہے غیر تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے ٹیکنیکل سکل میں کمی رہ جاتی ہے۔ اور اس کا کتنا اثر پڑتا ہے ہمیں میں لیبر فورس پارٹیسپیشن ریٹ سے چلتا ہے۔ این ایس ایس او کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لیبر فورس پارٹیسپیشن ریٹ، کام کرنے والے افراد کا تناسب فی ایک ہزار میں سب سے کم ہیں اس میں مسلمان میں ایک 1000 میں دیہی علاقوں میں 249 اور شہری علاقوں میں 288 افراد ہیں۔
سب سے زیادہ تناسب عیسائیوں میں 494 ، ہندوؤں میں 400 ہے اور سکھوں میں 418 ہے۔
حل: ریاستی اور مرکزی حکومت کو اس سنجیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے قدم بڑھانا ہوگا۔کیونکہ ہندوستان کی ترقی مسلمانوں کی ترقی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ مسلمانوں کی بہتری کے لیے اعلی تعلیم کے لیے خاص سبسڈی اور نئی اسکالرشپس کا انتظام کروانا ہوگا۔
ایسے طالب علم جو عام اسکول سیکھنا نہیں چاہتے انہیں پیشہ وارانا اور ہنر کا کام سکھانے کے لئے قدم اٹھائے جانے چاہیے۔
تعلیم نسواں کو بہت ہی زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔
اکثر ہمارے معاشرے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لڑکی کی دسویں یا بارہویں ہونے کے بعد گھر بٹھا دیا جاتا ہے ہے اگرچہ کہ لڑکی ذہین ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں یہاں پر اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ اگر قوم کی ترقی ممکن ہے، تو اس میں تعلیم نسواں کا ہی بہت اہم رول ہو سکتا ہے اگر ایک لڑکی کو پڑھایا جاتا ہے تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے تحفہ عظیم ثابت ہوسکتا ہے۔
مسلمانوں کو تعلیمی اعتبار سے اگے لانے کے لئے مسلمانوں کی معاشی ، اقتصادی اور سیاسی حالات کو بہتر کرنے کی بہت ضرورت ہے۔پارلیمنٹ اور اسمبلی میں مسلم نمایندگی بھی ضروری ہے۔

اشفاق احمد مومن۔ پونا مہاراشٹرا

فون نمبر:9511603215