مسلمانوں سے زیادہ سی اے اے -این آر سی ہندوؤں کے لیے نقصان دہ : پرکاش امبیڈکر

ممبئی ،26دسمبر(یواین آئی)شہری ترمیم بل اور این آر سی کے مدعہ پر پورے بھارت میں مظاہرہ ہو رہے ہیں جس میں ملک کے تمام طالب علم اور تمام مذہبوں کے دانشور بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور ملک گیر مظاہرہ سے ڈر کر وزیر اعظم اور امیت شاہ نے این آر سی نہ لگانے کی بات کی ہے لیکن ان دونوں کی بات میں کرنی اور کتھنی میں فرق ہوتا ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ونچت بہوجن اگھاڑی کے سپریمو ڈاکٹر پرکاش امبیڈکر نے کل دوپہر بارہ بجے دادر ٹی ٹی جنکشن پر مظاہرہ کا انعقاد کیا تھا

جس میں ہزاروں کی تعداد دمیں ایس سی ، ایس ٹی ، اوبی سی اور مسلمانوں نے دیگر ہندو بھائیوں کے ساتھ پر زور مظاہرہ کیا ۔ دس سے بارہ مقرروں نے این آر سی اور سی اے اے کے خلاف بات کی اور آخر میں ڈاکٹر پرکاش امبیڈکر نے ایک چونکا دینے والا خلاصہ کیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے سی اے اے اور این آر سی سے نافذ کرنے کی بات کر کے مسلم مخالف ماحول پیدا کیا لیکن اصل میں سی اے اے اور این آر سی سی سے ہندوووں کے چالیس فیصدی طبقہ کو اپنی شہریت گنوانی پڑے گی جو کہ ان غریب ہندووں کے پاس نہ تو کوئی زمین ہے نہ تو کوئی اپنا خود کا گھر ہے اور وہ اپنے کاغذات پیش نہیں کر پائیں گے اور یہ اس طرح کا بی جے پی کا غریبوں کو ملک سے بدر کرنے کا یا ان کو ڈیٹینشن سینٹر میں ڈالنے کا منصوبہ ہے ۔.

ڈاکٹر پرکاش امبیڈکر نے اپنے پرزور انداز میں مظاہرہ میں آئے ہوئے تمام لوگوں سے کہا کہ یہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ یہ ہم تمام غریب ایس سی ، ایس ٹی اور تمام او بی سی طبقہ کا ہے اور انہوں نے کہا کہ ہم اس کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے ۔

انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ این آرسی آر ایس ایس کی مرضی سے آ رہا ہے لیکن جب ملک میں مظاہرہ مشروع ہو گئے تو وزیر اعظم مودی نے کہا کہ این آر سی نافذ کرنے کے بارے میں حکومت میں کوئی بات نہیں ہوئی ہے جبکہ امیت شاہ نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں این آر سی نافذ کرنے کی بات کہی تھی ۔ تو ایسی صورت میں وزیر اعظم مودی کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ فورا امیت شاہ کو وزارت سے بے دخل کریں یا پھر ان کی وزارت بدلیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امیت شاہ نے جو این آر سی کی بات کی تھی وہ مودی کے کہنے پر ہی کی تھی ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کو ایک ساتھ ہو کر آواز اٹھانیز چاہیئے اور کانگریس سے دور ہو جانا چاہیئے کیونہکہ کانگریس ان کی مدد نہیں کر سکتی ہے ۔ اس ریلی میں پورے مہاراشٹر سے بڑی تعداد میں ایس سی ، ایس ٹی ، اوبی سی کے لیڈران موجودتھےاور ساتھ ہی عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان اور عامر ادریسی ، مسلم لیگ کے سی ایچ عبدالرحمان و دیگر رہنما موجود تھے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading