کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آج سے دس سال بعد آپ کی شخصیت کیسی ہوگی؟؟
آپ کی صورتحال کیسی ہوگی؟؟
آپ کی مصروفیات کیا ہوں گی؟؟
آپ کو اخراجات کیلئے کتنے پیسے لگیں گے؟
آپ کے دوست کون ہوں گے؟؟
کیاچیلنجز ہوں گے؟؟
ان سب باتوں پر ہم کبھی غور نہیں کرتے ہیں۔ دراصل ہم آج کی زندگی میں کھوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ مستقبل سے ہمارا رشتہ بہت کمزور ہوتا ہے۔ خاص کر ہماری مستقبل کی شخصیت ہمارے لئے بالکل اجنبی ہوتی ہے۔
اس بات کو آپ سمجھنا چاہیں تو آج سے 15 سال پہلے یعنی سن 2004ء میں جائیے اور تصور میں اپنے ماضی سے ملاقات کیجئے اور ماضی کی اس شخصیت کو ان پندرہ سالوں میں ہونے والے تمام واقعات کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔ یقین جانئے پندرہ سال پہلے کی شخصیت آپ کے آج کے بارے میں جان کر شاک رہ جائے گی۔ اس وقت کی شخصیت اپنے مستقبل یعنی 2019ء سے متعلق کچھ نہیں جانتی تھی۔ لیکن آج یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
مثال کے طور پر جب آپ چھوٹے تھے تو آپ کیلئے باورچی خانے کے اوپر والے شیلف سے شکر کا ڈبہ نکالنا ایک بڑا چیلنج تھا، کچھ وقت گزرنے کے بعد آپ اسٹول کے ذریعہ اس ڈبے تک پہنچ پائے، لیکن آج جب آپ بڑے ہو گئے ہیں شکر کا ڈبہ نکالنا آپ کیلئے کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے۔
اس بات کو آپ اپنے مستقبل پر بھی قیاس کریں۔ آج سے 10 سال بعد جو ہونے والا ہے اس سے آپ بالکل ہی ناواقف ہیں۔ دس سال بعد والی شخصیت آپ کیلئے بالکل اجنبی ہے۔ اور آپ کسی بھی اجنبی کیلئے آج کچھ بھی نہیں کریں گے۔ یہ بات ماہرنفسیات ہال ہرشفیلڈ نے اپنی حالیہ تحقیق میں درج کی ہے۔
ہرشفیلڈ لکھتے ہیں کہ آپ کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنا چاہتے ہوں تو اس کا پریکٹیکل حل یہ ہیکہ آپ تصور میں اپنی "مستقبل کی شخصیت” سے ملاقات کریں اور تمام باتیں اس سے شیئر کریں۔ آپ کی "آج کی شخصیت” اور "مستقبل کی شخصیت” کے درمیان جتنا رشتہ مضبوط ہوگا آپ اتنے ہی اچھے فیصلے لے سکیں گے۔
مستقبل کی شخصیت سے ناطہ کیسے جوڑیں؟؟
اب سوال یہ اٹھتا ہیکہ مستقبل کی شخصیت سے ناطہ کیسے جوڑیں؟
اردو کی مشہور داستان باغ و بہار، میر امن دہلوی نے لکھی ہے اس میں ایک کردار تھا بادشاہ آزاد بخت کا، آزاد بخت شیش محل میں نماز ادا کرکے وظیفہ پڑھ رہے تھے کہ یک بارگی آیئنہ کی طرف خیال کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سفید بال موچھوں میں چاندی کے تار کی مانند چمک رہا ہے۔ بادشاہ یہ دیکھ کر آبدیدہ ہوئے اور ٹھنڈی سانس بھری پھر دل میں سوچا کہ افسوس تو نے اتنی عمر ناحق برباد کی اور اسطرح آزاد بخت نے سلطنت کو چھوڑ چھاڑ کر ایک کونے میں گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ حالیہ زمانے تک بھی ہم آیئنہ میں اپنے حال کی ہی تصویر دیکھ پاتے تھے۔ اور جب تک سفید بال نظر نا آئیں مستقبل کے متعلق کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرپاتے تھے۔
لیکن آج ٹکنالوجی کے اس دور میں "مستقبل کی شخصیت” سے روبرو ہونا آسان ہوگیا ہے۔ آپ مختلف ایپس (Apps) کے ذریعہ اپنی آج کی تصویر کو آج سے دس سال بعد کے چہرے میں آسانی سے تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس طرح آپ اپنے مستقبل سے راست مل سکتے ہیں اور اپنے مستقبل سے مضبوط رشتہ استوار کر سکتے ہیں۔
دراصل ہمارا چہرہ ہماری شخصیت کا سب سے اہم جز ہے۔ اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ پیدا ہونے والا بچہ بھی صرف چہرے کی طرف دیکھتا ہے۔
اس ضمن میں ایک اور ماہر نفسیات یہوناتن ٹرنر نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا ہیکہ ایسے مریضوں کے رپورٹ کارڈ جن پر مریضوں کی تصویر لگی ہوئی تھی ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر نے اچھے انداز سے زیادہ ذمہ داری کے ساتھ مرتب کی جبکہ جن رپورٹ کارڈ پر مریض کی تصاویر نہیں تھیں انکی رپورٹ سرسری بنائی گئی تھی۔ اس کا مطلب کیا ہے؟؟
اس کا مطلب یہ ہیکہ جہاں آپ کا چہرہ ہوگا وہاں لوگوں کا آپ سے رشتہ زیادہ مضبوط ہوگا اور لوگ زیادہ ذمہ داری کے ساتھ آپ کہ جانب متوجہ ہونگے۔
اسی طرح جب آپ اپنی مستقبل کی شخصیت کا چہرہ دیکھیں گے تو اسکے تئیں آپ کے اندر ذمہ داری کا جذبہ بڑھ جائے گا۔ اور آپ کی مستقبل کی شخصیت آپ سے باکلیہ اجنبی نہیں رہیگی۔
اس تکنیک کو این ایل پی میں فیوچر پیسنگ (Future Pacing) کہتے ہیں۔ اس تکنیک کو آپ بہتر مستقبل بنانے میں ہر جگہ استعمال کر سکتے ہیں۔
بل کلنٹن، مارٹن لوتھر کنگ اور جدید زمانے میں ٹونی رابنس اپنی تقاریر میں اس تکنیک کا استعمال کرتے ہیں، اور لوگوں کو بہتر مستقبل کی جانب گامزن کرتے ہیں۔ آپ خود تصور میں مستقل کی صورت گیری کر سکتے ہیں اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کی انزائٹی (Aanxiety) دور ہوجائے گی، اور آپ کے قدم مستقبل کی جانب اور زیادہ اعتماد کے ساتھ اٹھیں گے۔
تو پھر دیر کس بات کی ہے:
اپنی ماضی کی تلخ یادوں سے ناطہ توڑیں۔
خوبصورت مستقبل کی جانب پیش قدمی کریں۔
خوش رہیں۔ خوشیاں بانٹتے رہیں۔ 😊💐💐