راج ٹھاکرے کے ‘الٹی میٹم’ پر وزیر داخلہ کا واضح بیان
ممبئی: 16اپریل۔ (ورق تازہ نیوز) ایم این ایس کے صدر راج ٹھاکرے نے گڑی پاڑوا ریلی کے بعد مساجد کے لاوڈاسپیکر سے ہونے والی اذان پراعتراض ظاہر کرتے ہوئے لاوڈاسپیکر کو نکالنے کے تعلق سےر متنازعہ بیان دیاتھا۔ اس تقریر کے بعد راج پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی۔ اس تنقید کا نوٹس لینے کے لیے انھوں نے تھانے میں ایک جوابی اجلاس منعقد کیا۔
خاص بات یہ ہے کہ تھانے میں میٹنگ کے دوران بھی وہ مساجد کے لاوڈاسپیکر پرب برہم تھے ۔انھوں نے ریاستی حکومت کو 3 مئی تک لاوڈاسپیکر ہٹانے کا الٹی میٹم بھی دیا ہے۔ اب ریاست کے وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل نے اس معاملے پر واضح موقف کااظہار کیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ نہیں کہا کہ مساجد سے لاوڈاسپیکر نکالے جائیں۔
عدالت نے رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک ساو¿نڈ ٹریکس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ لہذا، ان مساجد اور مندروں سے لاو ڈ اسپیکر ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جنہوں نے اجازت لی ہے اور وہ قانون کی پیروی کر رہے ہیں۔ راج ٹھاکرے نے خبردار کیا ہے کہ اگر 3 مئی تک مساجد میں لاﺅڈ اسپیکر نہیں نکالے گئے تو تو ہم مندروں پر لاو¿ڈ اسپیکر لگائیں گے اور وہاں سے ہنومان چالیسہ پڑھیں گے۔