[حال ہی میں عورتوں کی جانب سے مزارات پر حاضری کے مطالبہ پر خصوصی تحریر]
.تحریر:سراج احمد قادری مصباحی سیتامڑھی بہار،خادم :الکلیم دار الافتا مرغیا چک سیتامڑھی بہار.موبائیل:8175515536
زن نیک رو خو پارسا
کند مرد درویش را پادشاہ
مذہب اسلام ایک ایسا پاکیزہ اور مودب مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو ہر طرح کی نجاست وآلودگی سے دور رکھتا ہے ،حلال وحرام کی نشاندہی کرکے حرام سے دور اور حلال سے قریب رہنے کا حکم دیتا ہے۔مردو عورت ہر ایک کا حق متعین کرکے جدا گانہ طور پر بیان کردیا ہے۔اسلام ایک منظم اور مہذب مذہب ہے جو تہذیب وادب کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیتا ہے۔اسلام محمودو پسندیدہ مذہب ہے۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:ترجمہ:اللہ کے نزدیک پسندیدہ مذہب دین اسلام ہے ،اللہ نے جب اسلام کو پسندیدہ دین کہا تو ایک دوسری جگہ فرمایا:ترجمہ:تم لوگ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کئے گئے الخ۔
مذکورہ آیتوں میں آپ غور کریںکہ ایک میںاسلام کو پسندیدہ دین کہا جارہا ہے اور دوسری میں اسلام کے ماننے والوں کو بہترین امت کے لقب سے یاد کیا جارہا ہے۔ہمیں جب قرآن بہترین امت کہہ رہا ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم وہی فعل وقول کریں جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے ہم انہیں مسائل واحکام کومانیں جو تعلیمات خدا ورسول عزوجل ﷺ کا حصہ ہیں ،اللہ تبارک وتعالی اور اس کے حبیب ﷺ نے جن چیزوں کو اپنانے اور حاصل کرنے کا حکم دیا ہے انہیں کے حصول میں ہم کوشاں رہیں اور جن چیزوں سے ہمیں روک دیا گیا ہے ان سے باز رہیں۔
لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان مردو عورت اس قدر آزاد خیال ہوچکے ہیں کہ انہیں ہر مسئلہ میں آزادی چاہئے ہر معاملہ کو طبیعت کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں خواہ وہ مسئلہ عین شریعت کے مطابق ہو یا نہ ہو،آج کا مسلمان جہالت میں اس طرح ڈوب چکا ہے کہ محض طبیعت کو اپنی خواہشات کا ذریعہ بنالیا ہے جو طبیعت کہتی ہے، جس کی طرف عقل چلنے کو کہتی ہے اس طرف وہ دوڑتا ہوا نظر آتا ہے خواہ وہ حلال ہو یا حرام عقل وطبیعت کی لاٹھی نے اسے مار کر اس قدر اندھا کردیا ہے کہ حلال وحرام میں تمیز نہیں کر پاتے کہ کون سی چیز ہمارے لیے حلال ہے اور کون سی چیز ہمارے لیے حرام ہے۔
عصر حاضر میں عورتوں کا مزارات پر جانے کے تعلق سے کافی چرچے اور بحثیں ہورہی ہیں معاملہ کورٹ تک پہنچ چکا ہے جس میں یہ بتایا جارہا ہے کہ کچھ ہندو اور مسلم عورتوں نے اپنا حق مانگتے ہوئے یہ کہا کہ مندر میں جب عورتوں کو جانے کی اجازت ہے تو مزارات میں مسلمان عورتوں کو جانے کی اجازت کیوں نہیں؟اور جب مزارات پر عورتیں جانا چاہتی ہیں تو انھیں روک دیا جاتا ہے یہ کہہ کر کہ عورتوں کو مزارات پر جانا منع ہے،معاملہ کی حقیقت کیا ہے؟سچ کیاہے؟یہ تو معلوم نہیں ہاں اتنا ضرور معلوم ہے کہ کچھ اسلام دشمن کی طرف سے آئے دن اسلام ومسلمانوں کے خلاف یہ سازشیں ہوتی رہتی ہیں کی کسی طرح اسلام ومسلمان کو بدنام کرکے نیست ونابود کردیا جائے یہی ان کا بنیادی اور اہم مقصد ہے۔
اگر واقعی ہماری ماں اور بہنوں نے ایسا گھنا ونا قدم اٹھا یا ہے تو ہم بڑے ہی ادب کے ساتھ عرض کریں گے کہ آپ مسلمان ہیں تو اسلام کے دائرے میں رہ کر اسلامی بول بولیں کسی کے بہکاوے میں آکر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش نہ کریں۔اگر واقعی آپ مسلمان ہیں! اور اسلام کی عقیدت ومحبت آپ کے دل ودماغ میں رچی بسی ہے تو آپ پر لازم ہے کہ قرآن وحدیث کے خلاف نہ جائیں بلکہ قرآن وحدیث سے جو مسائل واحکام صادر کئے گئے ہیں انہیں سمجھنے اور پھر ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ہمیں کسی کے مذہب سے کیا لینا دوسرے مذہب والے کچھ بھی کریں ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔اللہ تبارک وتعالیٰ صاف فرمادیا کہ تمہارا دین تمہارے لیے اور ہمارا دین ہمارے لیے ۔جب مذہب اسلام ہمارا مذہب ہے تو پھر ہم یہ کیوں کہیں گے اور یہ کیوں مطالبہ کریں گے کہ کفار کی عورتیں مندر میں جاتی ہیں تو ہمیں بھی مزارات میں جانے کی اجازت ملنی چاہئے ؟افسوس ہے کہ آپ اپنے پاک مذہب کا مقابلہ ایک ایسے مذہب سے کررہے ہیں جس کی بنیاد بے اصل روایات پر ہے ۔آپ اسلام کی مقدس شہزادی ہیں بات کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کیجیے اور یہ جان لیجیے کہ ہمارے اسلام کے خلاف ہر طرح کی زہریں اگلی جاتی ہیں اور پھر ان کے ذریعہ اسلام کو کمزور کرنے کی ناپاک سعی کی جاتی ہے ۔
لگے ہاتھ آپ ،عورتوں کا مزارت پر جانے کے تعلق سے شرعی اور اسلامی مسئلہ بھی جان لیجیے عورتوں کو مزارات پرجانا منع اور لعنت کا ذریعہ ہے۔ وجہ بے پردگی،مرد وزن سے اختلاط،خرافات وبکواسات ،لعنت ورحمت سے دوری وغیرہ
ظاہر ہے جب آپ گھر سے نکلیں گے تو بے پردگی لامحالہ ہوگی شریعت اسلامیہ نے سختی کے ساتھ پردے کا حکم دیا ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وقل للمومنات یغضضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولا یبدین زینتھن ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن “(النور ،آیت:۰۳)اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں اور اپنی خوبصورتی ظاہر نہ کریں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور اپنے ڈوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں ۔
تفسیر روح المعانی میں اللہ تعالی کے فرمان ولیضربن علی جیوبھن کی تفسیر کرتے ہوئے جاہلیت کے دور کی بے پردگی کے بارے میں لکھتے ہیں:اس آیت سے مراد جیسا کہ امام ابن ابی حاتم نے حضرت جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالی نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی گردنوں اور سینوں کو اپنی اوڑھنیوں کے ساتھ چھپائیں تاکہ اس میں سے کوئی چیز نظر نہ آئے اور زمانہ¿ جاہلیت کی طرح عورتیں اپنی اوڑھنیوں سے سروں کو چھپاتیں اور انہیں اپنے پیچھے کی طرف پشت پر چھوڑ دیتیں پس ان کی گردنیں اور کچھ سینے ظاہردکھتے رہتے۔(تفسیر روح المعانی ج:۸۱،ص:۸۲۱)
اس آیت کی تفسیر میں حضرت پیر کرم شاہ ازہری رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:اب مومن عورتوں کو ان آداب واحکام کی پابندی کا حکم فرمایا جارہا ہے جس سے وہ اپنی ناموس(عزت)اور آبرو کی حفاظت کرسکتی ہیں(ضیاءالقرآن،ج:۳،ص:۴۱۳)
دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے:”وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیة الاولیٰ“اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ پھرو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔
اگلی جاہلیت سے مراد قبل اسلام کا زمانہ ہے،اس زمانے میں عورتیں اتراتی نکلتی تھیں اپنی زیب وزینت کا اظہار کرتی تھیں تاکہ غیر مرد دیکھیں اور لباس اس طرح پہنتی تھیں جن سے جسم کے اعضا اچھی طرح نہ ڈھکتے تھے۔(خزائن العرفان)
حدیث میں ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ یہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر تھیں کہ عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے حضور ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا پردہ کر لو۔کہتی ہیں ،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ تو نابینا ہیں ہمیں نہیں دیکھیں گے۔حضور نے فرمایا کیا تم دونوں اندھی ہو؟کیا تم انہیں نہیں دیکھو گی؟(ترمذی شریف،باب کراہیة خروج النسائ)
دوسری حدیث میں ہے:حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںکہ حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ عورت کے لیے کون سی چیز بہتر ہے؟تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم خاموش رہے۔کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اسی وقت سیدہ فاطمہ زہرہ کے پاس آیا اور آکر پوچھا:عورتوں کے لیے سب سے بہتر کیا چیز ہے ؟سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نہ وہ مردوں کو دیکھیں اورنہ مردان کو دیکھیں ۔فرماتے ہیں میں نے سیدہ فاطمہ کا جواب حضور ﷺ سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔(المرجع السابق)
مذکورہ آیات وتفاسیر واحادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ اسلام میں پردے کی اہمیت کس قدر ہے اس لیے ہم اپنی ماو¿ں اور بہنوں سے گزارش کریں گے بے پردگی سے بچیں اور مزارات پر جاکر بے پردگی کو فروغ نہ دیںاور یہ بھی معلوم ہوا کہ مرد اور عورت دونوں کو اجنبی مرد اور عورت سے اپنی نظر کی حفاظت کرنا لازم ہے اور یہی صحیح معنی میں نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے کا عمدہ طریقہ ہے۔
مزار پر جانے کے تعلق سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:حدیث میں قبروں کی زیارت کرنے والیوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ۔امام قاضی خاں سے استفتا ہوا کہ عورتوں کا مقابر (قبروں اور مزاروں )پر جانا جائز ہے یا نہیں؟فرمایا ایسی جگہ جائز ناجائز نہیں پوچھتے یہ پوچھ کہ اس میں عورتوں پر کتنی لعنت پڑتی ہے جب گھر سے کسی قبر کی طرف چلنے کا ارادہ کرتی ہیں اللہ اور فرشتوں کی لعنت میں ہوتی ہیں جب گھر سے باہر نکلتی ہیں سب طرفوں سے شیطان اسے گھیر لیتے ہیں۔جب قبر تک پہنچتی ہیں میت کی روح اس پر لعنت کرتی ہے جب واپس آتی ہیں اللہ تعالیٰ کی لعنت میں ہوتی ہیں۔(جمل النور،ص:۴۲)
گذارشات:
(۱)مزارات پر جانا فرض یا واجب نہیں لہذا بزرگوں کے نام سے گھر بیٹھے بیٹھے ہی ایصال ثواب کرلیں وہاں جاکر ایصال ثواب کرنے سے عورتوں کے لیے گھر پر ہی کرنا افضل اور اللہ کی رحمت سے قربت کا ذریعہ ہے۔
(۲)ہر معاملہ میں اپ اسلام اور شریعت کو فالو کریں کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں ۔
(۳)شریعت کی حد میں رہ کر نیک اور جائز افعال واعمال کو اختیار کرے۔
(۴)اسلام دشمن کی جانب سے سازشوں ،کو سمجھنے کی کوشش کیجیے اور انہیں ناکام بنانے کے لیے آپ بھی بھر پور ساتھ دیں۔
(۵)یہ یاد رکھیں کہ مزارات پر جانے کی وجہ سے عورتوں پر اللہ اور اس کے فرشتوں کی جانب سے لعنت ہوتی ہے۔
(۶)پردے کا اہتمام ہر وقت کریں حضر میں ہو یا سفر میں۔
(۷)میری عزیز بہنوں اور ماو¿ں اپنے تقدس کا خیال کیجیے عزت وآبرو کی حفاظت کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مسلمان مرداور عورتوں کو اسلام کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے،اسلام کو سمجھنے کے لیے صحیح فکر اور ٹھوس دل عطا فرمائے امین بجاہ النبی الکریم ﷺ
عورتوں کو اسوہ¿ خیر النسا
دین ودنیا میں عطا کر خدا