مرکزی وزیرنے کانگریس لیڈرکی مسلم بیوی پرکیا تبصرہ، ٹوئٹرپر بحث چھڑگئی

نئی دہلی:28جنوری(ایجنسیز)مرکزی وزیربرائے فروغ ہنرمندی (اسکل ڈیولیمنٹ منسٹر) اننت کمارہیگڑے کے’ہندو لڑکیوں’ کولےکردیئے گئے بیان کے بعد کرناٹک کے کانگریس سربراہ دنیش گنڈوراواوران کے درمیان ٹوئٹرپرجنگ چھڑگیا ہے۔ اننت کمارہیگڑے نے اتوارکوکہا تھا کہ ‘جو ہندو لڑکی کوہاتھ لگائے گا، وہ بچنا نہیں چاہئے’۔گنڈوراونے ہیگڑے کے اس بیان کی تنقید کی۔ ساتھ ہی انہوں نے کرناٹک کی ترقی میں ہیگڑے کے تعاون اورحصولیابیوں پربھی سوال اٹھایا۔ اس پرہیگڑے نے ردعمل ظاہرکرتے ہوئے ٹوئٹ کیا "میں اپنی حصولیابی کے بارے میں ضروربتاوں گا، لیکن کیا اس سے پہلے گنڈوراو بتائیں گے کہ ان کی کیا حصولیابی ہے؟ میں تویہی جانتا ہوں کہ وہ مسلم لڑکی کے پیچھے بھاگتے تھے”۔ مانا جارہا ہے کہ یہ بات ہیگڑے نے بالواسطہ طورپرگنڈوراوکی مسلم بیوی تبو راو کے لئے کہی تھی۔اس پردنیش گنڈو راو نے ٹوئٹ کیا کہ اننت کمارہیگڑے کوعوامی اسٹیج پربات چیت کرنے کا طریقہ نہیں معلوم ہے۔ شاید انہوں نے ہندو گرنتھ نہیں پڑھے ہیں۔ واضح رہے کہ دنیش گنڈو راو کی بیوی تبوراو ہمیشہ سیاست سے دوررہتی ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading