نئی دہلی: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات اب بھارت میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں مرکزی حکومت نے معیشت کو مستحکم رکھنے اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔ تازہ ترین اقدام کے تحت چاندی کی درآمد سے متعلق بڑا فیصلہ لیا گیا ہے، جس نے کاروباری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے حکومت سونے اور چاندی کے حوالے سے مسلسل اہم فیصلے کر رہی ہے۔ وزیرِاعظم Narendra Modi نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ آئندہ ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز کریں۔ اس کے بعد اب حکومت نے چاندی کی درآمد پر بھی سختی کرتے ہوئے اسے آزاد (فری) زمرے سے نکال کر محدود (ریسٹرکٹڈ) زمرے میں شامل کر دیا ہے۔
حکومت کے اس فیصلے کے مطابق اب چاندی درآمد کرنے کے لیے سرکاری اجازت اور لائسنس لازمی ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد غیر ضروری درآمدات پر قابو پانا اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کی بچت کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اپریل کے مہینے میں چاندی کی درآمد میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 157 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد حکومت کو یہ سخت قدم اٹھانا پڑا۔
مزید برآں، حکومت نے سونے اور چاندی پر درآمدی ڈیوٹی کو 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ہے تاکہ درآمدات کو محدود کیا جا سکے۔ ہارمونائزڈ سسٹم (HS کوڈ) کے تحت جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہفتہ سے چاندی کی غیر محدود درآمد پر مکمل روک لگا دی گئی ہے۔
فی الحال بھارت کے پاس 690 ارب ڈالر سے زائد کا غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخیرہ موجود ہے، جو تقریباً 10 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہے۔ تاہم اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ طول پکڑتی ہے تو اس ذخیرے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے پیش نظر حکومت نے پیشگی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع جلد ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، اور اس کے اثرات عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ بھارتی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کے شعبے میں بڑا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
(رپورٹ: خصوصی نمائندہ)