نئی دہلی:12نومبر۔(ایجنسیز) سپریم کورٹ نے پیر کے روز عصمت دری کو جینڈر نیوٹرل کرائم بنانے کی مانگ کرنے والی ایک عرضی کو خارج کر دیا۔ عرضی میں مردوں کے ساتھ ہونے والی عصمت دری کو جرم قرار کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، عدالت عظمی نے پایا کہ اس کے لئے ابھی یہ ایشو ضروری نہیں ہے۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی بینچ نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اس مرحلہ میں اس عرضی کی سماعت کی خواہش مند نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ یہ ایشو پارلیمنٹ کے دائرے میں آتا ہے کیوں کہ قانون سازی کرنا اور جرم کی شناخت کرنا اور سزا کے لئے التزام کرنا یہ قانون سازی کے تحت آتا ہے۔جب وکیل نے عرضی واپس لینے کی مانگ کی، جسٹس گوگوئی نے پایا کہ ان کا حکم واضح تھا کہ ’ اس مرحلہ میں‘ عرضی پر سماعت کے لئے تیار نہیں تھی لیکن اس کے یہ معنیٰ نہیں ہیں کہ عرضی میں کوئی اہم بات نہیں یا مستقبل میں اس پر سماعت نہیں ہو سکتی۔واضح ہو کہ اس عرضی کو کریمنل جسٹس سوسائٹی آف انڈیا کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ عرضی میں ریپ قانون میں لیکونا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ مردوں اور ہم جنس پرستوں کے خلاف ہونے والے ریپ کو جرم کے طور پر قبول نہیں کرتا ہے۔