بھگواءملزمین کا بم دھماکوں کے شہیداور زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ قبول کرنے سے انکار

عدالت نے اسے عدالتی کام کاج میں رخنہ اندازی قرارد یا ، سپریم کورٹ سے بھی کرنل پروہیت کو کوئی راحت نہیں

ممبئی: 12 نومبر (ای میل)مالیگاﺅں 2008 ءبم دھماکہ معاملے میں آج یہاں تین بھگوا ءملزمین نے بم دھماکوں میں شہید ہونے والے 6 مسلم نوجوان اور101 زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ قبول کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد عدالت نے استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ ڈاکٹروں کو گواہی کے لیئے طلب کرے جنہوں نے میڈیکل رپورٹ مرتب کی تھی ۔متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) لیگل سیل کے وکلاءشاہد ندیم، ابھیشیک پانڈے جو آج خصوصی این آئی اے عدالت میں موجود تھے کے مطابق آج ملزمین رمیش شیواجی اپادھائے، کرنل شریکانت پروہیت اور سدھاکر دھر دویدی کے وکلاءنے خصوصی جج ونود پڈالکر کو بتایا کہ وہ وہ استغاثہ کی جانب سے داخل کی گئی میڈیکل رپورٹ کو قبول کرنے کو تیار نہیں حالانکہ دیگر ملزمین پرگیا سنگھ ٹھاکر، سمیر شرد کلرنی، اجئے راہیکر، سدھاکر اومکارناتھ چترویدینے میڈکل رپورٹ کو قبول کرلیا۔تین ملزمین کی جانب سے میڈکل رپورٹ قبول (ایڈمیٹ ) نہیں کیئے جانے پر خصوصی جج نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملزمین کا یہ فیصلہ عدالتی کام کاج میں رخنہ اندازی اور مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنا ہے کیونکہ عموماً میڈیکل رپورٹ کو ملزمین ایڈمیٹ کرلیتے ہیں تاکہ گواہوں کی فہرست کو تجاوز ہونے سے بچایا جاسکے ۔ عدالت نے آج کی کاررائی کے بعد سماعت 15 نومبر تک ملتوی کردی۔اسی درمیان سپریم کورٹ نے کرنل شریکانت پروہیت کی اس درخواست کو مسترد کردیا جس میں اس نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اسٹے دینے والی عرضداشت پر جلد سماعت کی گذارش کی تھی۔ آج چیف جسٹس آف انڈیا نے کرنل پروہیت کے وکلاءکو بتایا کہ وہ20 نومبر کے بعد عدالت سے اس تعلق سے رجوع ہو۔آج کی عدالتی کارروائی کے بعد جمعیة علماءقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ بھگواءملزمین کا میڈکل رپورٹ ایڈمیٹ کرنے سے انکار کرنا اس بات کا اشارہ ہیکہ وہ مقدمہ کی سماعت نہیں ہونے دینا چاہتے نیز وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ جج کے سامنے مقدمہ کی سماعت شروع نہ ہوسکے ورنہ عام طو ر پر استغاثہ کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی میڈکل رپورٹوں کو ملزمین بآسانی قبول کرلیتے ہیں ۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں خصوصی این ائی اے عدالت نے ۷ ملزمین کے خلاف چار فریم کردیا تھا جس کے بعد استغاثہ نے عدالت میں میڈکل رپورٹ سمیت گواہوں کی فہرست پیش کی تھی جس پر عدالت نے ملزمین سے جواب طلب کیا تھا ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading