حکومت کے ذریعہ مردم شماری سے متعلق جاری نوٹیفکیشن میں ذات پر مبنی مردم شماری کا تذکرہ نہ کیے جانے کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ کانگریس لیڈران لگاتار مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں اور نوٹیفکیشن میں ذات پر مبنی مردم شماری کا تذکرہ نہ کیے جانے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری سچن پائلٹ نے ایک پریس کانفرنس کر ذات پر مبنی مردم شماری کی اہمیت ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ مردم شماری کے لیے حکومت کے ذریعہ جاری کم بجٹ پر بھی میڈیا کے سامنے اپنی بات رکھی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سچن پائلٹ نے کہا کہ ’’کانگریس پارٹی اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے طویل مدت سے مطالبہ رکھا تھا کہ ملک میں جب بھی مردم شماری ہو، اس میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے۔ انھوں نے یہ مطالبہ لگاتار سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک اٹھایا۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ جب ہمارے پاس اعداد و شمار ہوں گے تبھی ہم ملک کے ہر طبقہ، ہر شخص کو پالیسی سازی سے جوڑ سکیں گے اور انھیں اس کا فائدہ مل پائے گا۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’’ذات پر مبنی مردم شماری کا مقصد یہ جاننا بھی ہے کہ ملک میں الگ الگ طبقات کے لوگ کن حالات میں رہ رہے ہیں؟ لوگ حکومت کے منصوبوں کا فائدہ اٹھا پا رہے ہیں یا نہیں؟ لوگوں کی ملک اور اداروں میں شراکت داری کتنی ہے؟ ملک کے لوگوں کی تعلیمی، معاشی و سماجی حالت کیا ہے؟‘‘
سچن پائلٹ کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور نریندر مودی نے کئی بار کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کرنے والے لوگ اربن نکسل ہیں۔ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں جواب دیا کہ ہم ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے حق میں نہیں ہیں۔ لیکن شدید مخالفت کے بعد حکومت نے اچانک ہمارے مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ اب ایک بار پھر سے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کی بات سے پیچھے ہٹنے کو لے کر ہمیں حکومت کی نیت پر شبہ ہے۔ کانگریس لیڈر نے مردم شماری پر ہونے والے خرچ اور حکومت کے ذریعہ جاری بجٹ کا تذکرہ بھی میڈیا کے سامنے کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’’ہندوستان میں مردم شماری بہت پہلے سے ہوتی آ رہی ہے۔ ہندوستان کی حکومتوں نے تجربہ اور سمجھداری سے مردم شماری کروائی ہے۔ لیکن آپ بی جے پی حکومت کی نیت دیکھیے، جہاں مردم شماری کرانے میں 10-8 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں، وہاں حکومت نے 570 کروڑ روپے بجٹ میں الاٹ کیے ہیں۔‘‘ پھر وہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ’’حکومت لوگوں کے سامنے کہہ رہی ہے کہ وہ ذات پر مبنی مردم شماری کرائے گی، لیکن رسمی نوٹیفکیشن سے یہ بات غائب ہے۔‘‘