کیا امریکہ اس جنگ میں شریک ہونے والا ہے؟

فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار/بی بی سی نیوز
بی ٹو سپیریٹ بومبر،تصویر کا ذریعہUSAF
،تصویر کا کیپشنبی ٹو سپیریٹ بومبر
یہ سوال 30 ہزار پونڈ وزنی ہے۔ کیونکہ ایران کے سب سے خفیہ اور قیمتی جوہری تنصیبات تک پہنچنے کے لیے 13 ہزار 600 کلو گرام وزنی ہتھیار درکار ہے۔ فردو میں ایک پہاڑ کے نیچے دبا ایرانی پلانٹ 90 میٹر کی گہرائی پر ہے۔

اس ہتھیار کا نام ’جی بی یو 57 ایم او پی‘ ہے جسے انگریزی میں میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر کہتے ہیں۔ یہ زیرِ زمین 61 میٹر گہرائی پر بھی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے کئی مرتبہ استعمال کرنے سے مزید گہرائی میں بھی جایا جا سکتا ہے۔

یہ ہتھیار امریکہ کے پاس ہے، اسرائیل کے پاس نہیں۔

صرف ایک طیارہ اس غیر جوہری بم کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے: یو ایس اے ایف بی ٹو سپیریٹ بومبر جو ایک ساتھ ایسے دو بم لے جا سکتا ہے۔

خیال ہے کہ یہ طیارے بحیرۂ ہند میں امریکی و برطانوی اڈے پر ڈیاگو گارسیا میں موجود ہیں اور ان کا ایران سے فاصلہ 3796 کلو میٹر ہے جو کہ بی ٹو کی رینج میں ہی آتا ہے۔

امریکی نیوی کیریئر سٹرائیک گروپ اس خطے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اگر اسرائیل ایران کے جوہری ہتھیار کی تنصیبات تباہ کرنا چاہتا ہے تو اسے فردو سے نمٹنا ہوگا۔ اسرائیل کے لیے ایسا ممکن نہیں مگر امریکہ یہ کر سکتا ہے۔ اسرائیلی کمانڈو ریڈ ایک دوسری مگر خطرناک آپشن ہے۔

امریکہ کا ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ: ’ہمیں معلوم ہے رہبرِ اعلیٰ کہاں چھپے ہوئے ہیں‘، ٹرمپ
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ’ایران کے پاس اچھے ریڈار اور دفاعی ساز و سامان تھا لیکن اس کا امریکہ میں تیار کردہ ساز و سامان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے ایران کی فضائی حدود کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘

خلاصہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ایک کروڑ شہریوں کو ’فوری طور پر انخلا‘ کی وارننگ کے بعد ایرانی دارالحکومت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ واپس روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں اضافی صلاحیتوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے
اسرائیلی میڈیا کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حملوں کے بعد حیفا ریفائنری کا کام روک دیا گیا ہے
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ’نتن یاہو کو خاموش کرنے کے لیے واشنگٹن سے صرف ایک فون کال کافی ہے‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ ’ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کا کوئی بھی ممکنہ منصوبہ تنازع کو مزید طول نہیں دے گا بلکہ ختم کر دے گا‘
ایران کے سرکاری ٹی وی پر اسرائیلی حملے میں ’متعدد‘ افراد ہلاک ہوئے ہیں

بہت سے لوگ فی الحال خطے میں امریکی فوج کی سرگرمیاں دیکھ رہے ہوں گے۔ سوال ہے کہ کیا یہ محض ایک داؤ ہے تاکہ تہران پر دباؤ ڈال کر اسے معاہدے پر آمادہ کیا جا سکے؟ یہ بات بھی اہم ہے کہ ٹرمپ ماضی میں جنگوں کی مخالفت کر چکے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading