مراٹھی اکثریتی شہر تھانے میں اردو کے فروغ کے لیے ادبی نشست کا انعقاد
خاندیش ادبی مرکز نے مرحوم ہارون برق زبیدوی کو خراج عقیدت پیش کی
تھانے (آفتاب شیخ)
ممبئی سے متصل تھانے شہر میں اکثریت مراٹھی زبان بولنے والوں کی ہے مراٹھی بولنے والوں کے درمیان قدیم مسلم آبادی والے علاقے رابوڑی اردو سے محبت کرنے والوں کا علاقہ مانا جاتا ہے۔ رابوڑی کے معروف سماجی ادارہ انجمن خاندیش کے زیر انصرام خاندیش ادبی مرکز اردو زبان، ادب ثقافت کے تحفظ لیے کوشاں رہتا ہے اور اردو کی بقا و ترقی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کرنا ہی اس کا نصب العین ہے۔ اسی سلسلے میں ہر مہینے ادبی شعری نشست منعقد کیے جانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز بھی ایک شعری نشست انجمن خاندیش کمیونٹی ہال رابوڑی میں منعقد کی گئی یہ نشست رابوڑی کے مشہور شاعر و سماجی شخصیت مرحوم ہارون ایم برق زبیدوی کے نام سے منصوب کی گئی۔ نشست کی صدارت سینئر سماجی و تعلیمی شخصیت و ہارون برق کے صاحبزادے محمد جاوید شیخ نے کی وہی اردو کی خدمت کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنے والے فعال شخصیت محمد متین شیخ نے نظامت کے فرائض انجام دیے
رابوڑی کے سماجی و تعلیمی خدمات انجام دینے والے و اردو سے محبت کرنے والے اہل ذوق حضرات نے خصوصی شرکت فرمائی۔ مقامی مسلم شعراء کے ساتھ ساتھ قرب و جوار کے غیر مسلم شعراء نے بھی شرکت فرماکر اردو سے اپنی وابستگی و محبت کا اظہار کیا۔ برق صاحب کے صاحبزادے عتیق ہارون برق نے اپنے والد مرحوم کی غزلیں ترنم سے پیش کر حاضرین میں اپنے مرحوم والد ماجد کی یاد کو تازہ کردیا تھا۔ شعراء میں گلزار کرلوی، ڈاکٹر عبدالخلیق وفا سلطان پوری، انیس تھانوی، ایڈوکیٹ منور انصاری، اوماکانت ورما، ایاز میر نے بہترین انداز میں اپنے کلام پیش کر سماع باندھ دیا تھا وہی حاضرین میں موجود اہل ذوق حضرات میں سے عاقد علی قاضی، نور اشرفی، مسعود ترکی، اعجاز کھتری اور شاہد رضا نے بھی اپنے منفرد انداز میں دیگر شعراء کی غزلیات و کلام پیش کر سامعین کو داد دینے پر مجبور کردیا۔ یہ سلسلہ رابوڑی میں کافی برسوں بعد دوبارہ شروع ہوا ہے اس لیے باذوق حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت فرماکر منتظمین کی حوصلہ افزائی کی۔ صدرِ نشست نے اپنے اظہار خیال کرنے سے پیشتر خادیش ادبی مرکز کے صدر آفتاب شیخ، انجمن خاندیش کے صدر سید عباس علی و اراکین ادبی مرکز و انجمن خاندیش کو مبارکباد پیش کی اور ان کے اردو کی خدمت کے جذبے کو سراہا و حوصلہ افزائی کی۔ اختتام میں ادبی مرکز کے رکن فیض شیخ نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔ نشست کی کامیابی کے لئے انجمن خاندیش کے نائب صدر ذاہد علی قاضی، سید طاہر علی، اکرم بنے خان، ادبی مرکز کے اراکین کبیرالدین شیخ، عبدالسعید شیخ، شریف الدین شیخ، فہیم خان، عبدالکریم خان و دیگر اراکین نے محنت کی۔