ناندیڑ:25اکتوبر(راست) آئندہ ماہ نومبر میں پورے ریاست مہاراشٹر میں خسرہ اور روبیلا مدافعتی ٹیکہ کاری مہم کا آغاز ہونے جارہا ہے. جس میں نو مہینے سے پندرہ سال تک کے تمام عمر کے بچوں کو مدافعتی ٹیکہ دیا جائے گا. لوگوں میں مدافعتی ٹیکہ کے تعلق سے پھیلی غلط افواہیں اور ان کے خدشات کو دور کرنے کی غرض سے آج ناندیڑ کے معروف تعلیمی ادارہ مدینتہ العلوم ہائی اسکول میں خسرہ اور روبیلا مدافعتی ٹیکہ کاری کے حمایت میں عوام الناس کو خبردار کرنے کیلئے ایک شاندار بیداری ریلی اور پوسٹرز میکنگ مقابلہ کا کامیاب انعقاد کیا گیا. خسرہ اور روبیلا جیسی مہلک اور وبائی امراض سے بچوں میں بخار اور نمونیا ہوتا ہے. عوام الناس میں یہ بیماری "چھوٹی چیچک یا داغ و دھبّے” کے نام سے مشہور ہے. عموماً اس بیماری کے تعلق سے عوام الناس میں بے اعتنائی و بے احتیاطی برتی جاتی ہے. یہ ایک لاعلاج مرض ہے. صرف مدافعتی ٹیکہ اندازی سے ہی اس بیماری کی روک تھام کی جاسکتی ہے. مرکزی حکومت نے بھی اس بیماری کو 2020 تک مکمل طور پر جڑ سے ختم کرنے کا ہدف رکھا ہے. اس بیماری کا خاتمہ کرنے کے لئے اور قومی مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اسکول ہٰذا میں بیداری ریلی اور پوسٹرز میکنگ مقابلے کا اہتمام نوڈل آفیسرز معلّم عبدالرّحیم سر اور معلّمہ محمدی عظمیٰ خان میڈم کے زیر نگرانی میں کیا گیا. اس ریلی میں اسکول ہٰذا کے تمام طلبائ اور تدریسی وغےر تدریسی عملے نے شرکت کی. یہ ریلی اسکول ہٰذا سے شروع ہوکر مخدوم نگر، مدینہ نگر، دیگلور ناکہ، ٹائر بورڈ، بلال نگر اور گنگا نگر سے ہوتے ہوئے اسکول ہٰذا پر بخیر و خوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی.

ریلی میں طلبائ نے مدافعتی ٹیکہ کے حمایت میں مختلف بینرس ہاتھوں میں ا±ٹھارکّھے تھے. اس موقع پر صدر معلّمہ انصاری نثار فاطمہ میڈم نے عوام الناس کو اپنے بچوں کو بلا خوف و خطر، افواہوں کو یکسر نظر انداز و مسترد کرتے ہوئے خسرہ اور روبیلا مدافعتی ٹیکہ دلانے کی پ±ر زور اپیل کی اور کہا کہ خسرہ اور روبیلا ایک خطرناک جان لیوا وائرل انفیکشن ہے جس کی ابتدائی علامتیں بخار، کھانسی، ناک کا لگا تار بہنا، خارش وغیرہ ہیں۔ 2015 میں خسرہ اور روبیلا کی وجہ سے عالمی سطح پر 1,34,200 بچوں کی موت ہوئی تھی۔ ان میں سے 49,200 یعنی 36 فیصد بچے ہندوستان کے تھے۔ ایک اندازہ کے مطابق اب بھی ہر سال 35 ہزار بچے موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔ خسرہ اور روبیلا متاثرہ خاتون کے بچے معذور ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس بیماری سے جتنے اموات ہوتی ہیں ان میں 30 فیصد ہندوستانی بچے ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس بیماری سے ہر سال دو لاکھ سے زائد بچے گونگے ،اندھے اور امراض قلب کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بیماری اسقاط حمل کی بھی ایک اہم وجہ بیان کی گئی ہے، جسکا ایم-آر ویکسین سے تدارک کیا جا سکتا ہے۔ ایم-آر ویکسین محفوظ ٹیکہ ہے، جس کااستعمال کرنے سے بچوں کو خسرہ اور روبیلا کی بیماریوں سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں اسکول ہٰذا میں پوسٹرز میکنگ مقابلہ میں طالبات نے خسرہ اور روبیلا مدافعتی ٹیکہ بیداری مہم کو عوام الناس میں صد فیصد کامیاب بنانے کیلئے ایک سے بڑھ کر ایک پوسٹرز بنا کر سبھی کو حیرت میں ڈال دیا. آخر میں صدر معلّمہ نے تمام طلبہ و طالبات، تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو بیداری ریلی اور پوسٹرز میکنگ مقابلہ کو کامیاب بنانے پر تہہ دل سے سبھی کے تعاون کا شکریہ ادا کیا.