مدھیہ پردیش کے بیتول میں کرکٹ کھیلنے کے دوران ہوئے تنازعہ کو ختم کرانے پہنچے ایک نوجوان کی کرکٹ کے بلے سے پٹائی کے سبب موت ہوگئی۔ اس معاملے میں پولیس نے 2 ملزمین کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ متوفی ہاؤسنگ بورڈ میں کلرک کے عہدے پر تعینات تھا۔
بیتول کے گنج تھانہ کے کتل ڈھا نہ علاقے میں کرکٹ کھیلنے کے دوران ہوئے تنازع نے ایک خاندان کی خوشیاں چھین لیں۔ بچوں کے کے کرکٹ کھیل کے دوران بڑے گراؤنڈ پر دو گروپوں کے درمیان کہاسنی کے بعد پتھراؤ شروع ہوگیا۔ اسی دوران جھگڑا ختم کرانے پہنچے 27 سالہ موہت گوہے پر بے رحمی سے حملہ کردیاگیا جس سے ان کی موت ہوگئی۔
عینی شاہدین اور اہل خانہ کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچے محلے کے بڑے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔ اس دوران دونوں گروپوں میں کہا سنی ہوگئی جو دیکھتے ہی دیکھتے بڑے جھگڑے میں بدل گئی اورپتھراؤ شروع ہو گیا۔ چھوٹے گراؤنڈ میں کھیل رہے بچوں کو خطرے کا اندیشہ ہونے پر موہت کی بیوی نے انہیں جاکر متصادم فریقوں کوسمجھانے کے لیے کہا۔ موہت وہاں پہنچے اور حالات کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تبھی دو لڑکے ان کے ساتھ مارپیٹ کرنے لگے۔ جب موہت نے مزاحمت کی تو ملزمین نے ان پر بیٹ اور ڈنڈوں سے حملہ کردیا۔ اس حملے میں موہت کے سر میں شدید چوٹیں آئیں جس کی وجہ سے کافی خون بہہ گیا۔
واقعے کے بعد اہل خانہ زخمی موہت کو ایک پرائیویٹ اسپتال لے گئے جہاں اس کی تشویشناک حالت کے پیش نظر اسے بھوپال ریفر کردیا گیا۔ موہت بھوپال میں علاج کے دوران زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ موہت کی موت سے ان کے خاندان پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑاہے۔ دو سال پہلے ہی ان کی شادی ہوئی تھی۔ بیوی پریتی کا روروکر بُرا حال ہے جو خود کو اس بات کے لیے کوس رہی ہیں کہ انہوں نے ہی اپنے شوہر کو جھگڑا ختم کرانے کے لیے بھیجا تھا۔ موہت اپنے پیچھے ایک معصوم بیٹا اور اور ضعیف والدین چھوڑ گئے ہیں۔