(تحریک اسلامی کے علمبردار اشفاق احمد کی موت پر)

محمدتقی
مدیراعلیٰ ”ورقِ تازہ“ناندیڑ
آج بروز ہفتہ 20اکتوبر کی صبح اورنگ آبادسے یہ خبر غم آئی کہ تحریک اسلامی کے علمبردار محمداشفاق احمد انتقال کرگئے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اس خبر نے میرے ذہن پرا سٹرئک کیا ‘ میں تھوڑی دیر کے لئے خامو ش بیٹھارہا ۔اور پھر آج سے تقریبا 35سال قبل پرانی یادوں کے سحر میں کھوگیا ۔ میری اشفاق صاحب سے پہلی ملاقات اورنگ آباد کے ڈاکٹرذاکر حسین ہائی اسکول میں ہوئی تھی جو شاہ بازار میںواقع تھا ۔ وہ اس اسکول کے صدرمدرس تھے اور میں وہاں بی ۔ایڈ۔ کے ایک تربیتی معلم کی حیثیت سے اپنے اسباق (lesson) کی تدریس کےلئے جایاکرتاتھا ۔ یہ 1980-81 کا زمانہ تھا ۔ میں اورنگ آباد کے مشہور مراٹھواڑہ کالج آف ایجوکیشن میں بی ۔ایڈ ۔کااسٹوڈنٹ تھا اس زمانہ میں بی ۔ایڈ ۔صر ف ایک سال کاہواکرتاتھا ۔میرے اساتذہ مجھے اکثر اسباق کی تدریس کےلئے اسی اسکول میںبھیجاکرتے تھے ۔ چنانچہ اسی بہانہ کبھی کبھار اشفاق صاحب سے گفتگو کرلیاکرتاتھا ۔ ہماری گفتگو کاکوئی موضوع نہیں ہواکرتاتھا بس ادھر اُدھر کی کچھ کام کی باتیں ہواکرتی تھیں۔ لیکن مجھے اشفاق صاحب کی شخصیت کو سمجھنے اور اُن سے کچھ سیکھنے کا موقع ضرور ملا ۔ اشفاق صاحب میں میں نے ایک ملنسار ‘خلیق ‘ہمدر‘د بے لوث انسان پایا ۔ میری اوراُن کی عمر میں کوئی ایک آدھ سال کا فرق رہا ہوگااس وجہ سے میری اُن سے اچھی دوستی ہوگئی تھی ۔ تقریبا ایک سال تک اُن سے برابر ملاقاتیں ہوتی رہیں اس لئے کہ بی ۔ایڈ۔ کورس کاپوراسال مجھے وقتاً فوقتاً اشفاق صاحب کے اسکول اسباق کی تدریس کے لئے جانا پڑا تھا ااور جب میںنے بی ایڈ پاس کرلیاتو میراتقرر رتناگیری ضلع کے ایک موضع لاٹون کے ایک اردو ہائی اسکول میں ہوا ۔ مجھے اورنگ آباد چھوڑنا پڑا ۔ میرے اسکول کے لئے چند اساتذہ کی شدید ضرورت تھی۔اسکول انتظامیہ نے مجھ پر ذمہ داری ڈالی کہ میںا ورنگ آباد جاو¿ں اور وہاں ایک دو اساتذہ سے انٹرویو کرکے انھیں لاٹون لے آو¿ں ۔چنانچہ میںسال 1982 کے اگست میںاورنگ آباد پہونچا ۔ میں فکر مند تھا کہ اساتذہ کے انٹرویو کس مقام پر لے جائیں ۔ پھر اچانک میرے ذہن میں بات آ ئی کہ کیوں نہ اشفاق صاحب سے مدد لی جائے ۔ میں نے اشفاق صاحب سے ملاقات کی اوربتایا کہ میں اپنے اسکول کےلئے چنداساتذہ سے انٹرویو کرناچاہتا ہوں اوردوسری ہی سانس میں اُن سے خواہش ظاہر کی کہ اگر وہ اپنے اسکول میں انٹرویو کی اجازت دیتے ہیں تو پھر اخبار کے اشتہار میں اس اسکول کا پتہ شائع کروں گا۔ انھوں نے بغیر پس وپیش کئے مجھے اجازت دے دی ۔دوسرے دن” اورنگ آباد ٹائمز“ میں ضرورت اساتذہ کااشتہار شائع ہوا جس میںانٹرویو کا مقام ڈاکٹرذاکر حسین ہائی اسکول شاہ بازار اورنگ آباد لکھا تھا ۔ انٹرویو کا وقت دوپہر ساڑھے بارہ تاشام ساڑھے پانچ بجے تک دیاگیاتھا ۔ میں اور اشفاق صاحب دونوں دوپہر بارہ بجے ہی سے اسکول میں موجود تھے ۔ ہم دونوں ‘امیدواروں کاانتظارکرنے لگے لیکن شام پانچ بجے تک کوئی امیدوار نہیں آیاتو میں نے اشفاق صاحب سے کہا کہ اب کوئی امیدوار آنے والا نہیں ہے ۔ انتظارکرنا فضول ہے‘ میں اب چلتا ہوں ۔ اشفاق صاحب نے فوری کہا کہ آپ نے انٹرویو کاوقت شام ساڑھے پانچ تک دیاہے اسلئے آپ کا مقررہ وقت تک یہاں موجود رہنا ضروری ہے ۔ بات معقول تھی ۔ میں مزید ایک گھنٹہ یعنی شام چھ بجے تک اشفاق صاحب کے ساتھ اُن کے دفتر میں بیٹھا امیدواروں کاانتظار کرتا رہا مگرکوئی نہیں آیا ۔یہ انتظار بھی ایسا تھا جیسے کوئی عاشق اپنی معشوقہ کا بڑ ی بے صبری سے انتظار کرتا ہے اور پھر ایساہوتا ہے کہ معشوق نہیں آتا ۔ اورنامراد عاشق کو مایوس ہوکر لوٹ جانا پڑتا ہے ۔میں بھی مایوس لوٹ گیا ۔ یہ بات آئی گئی ہوگئی ۔ میں اپنے کاروبارزندگی میں اُلجھ گیا اس دوران ایک دوبار کہیں اشفاق صاحب سے علیک سلیک ہوا بس ! لیکن آج مجھے اُن کی رحلت کی خبر نے چونکادیا ۔ اور انکی متاثرکن شخصیت میری نظروں کے سامنے گھومنے لگی ۔ حسن سلوک ‘مروت ‘ہمدردی‘نظم وضبط اوراخلاص اشفاق صاحب کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے اوریہی وجہ تھی کہ جب کوئی شخص اُن سے ایک بار مل لیتاتھا وہ ہمیشہ کےلئے اُن کادوست بن جاتاتھا ۔اُن کی شخصیت کے بار ے میں یوں کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا۔
نگہہ بُلند‘سخن دل نواز‘جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کیلئے
تحریک اسلامی کے بے لوث مجاہد ‘ملک و ملّت کے ایک مخلص خدمت گار جناب اشفاق احمد کی ناگہانی موت یقینا ملّت اسلامیہ اور تحریک اسلامی کاناقابل تلافی نقصان ہے ۔رب ِذوالجلال سے دعاگو ہوں کہ وہ محترم محمداشفاق احمد کی اشاعت اسلام ‘تبلیغ دعوت اسلام کی بے لوث خدمات کوقبول کرے۔انھیںکروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اُن کی قبر کو نور وخوشبو سے بھردے ۔ ان کے پسماندگان کو صبرجمیل دے۔ آمین۔