فجیرہ کی بندرگاہ، جسے ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے، متحدہ عرب امارات کے لیے بہت اہم مقام اور مشرق وسطیٰ میں تیل ذخیرہ کرنے کے بڑے ڈپوز میں سے ایک ہے۔یہ بحری جہازوں میں ایندھن بھرنے کے لیے بھی ایک اہم مقام ہے۔
فجیرہ خلیج فارس کے بجائے خلیج عمان کی حدود میں آتا ہے اور اس لیے جہازوں کو آبنائے ہرمز میں جانے کی ضرورت نہیں۔ واضح رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے عملی طور پر آبنائے ہرمز بند ہے۔
آج آن لائن شیئر کی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر کمپلیکس سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سنیچر کے ہی روز ایرانی مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں کے قریب رہنے والے افراد کو ان سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی۔
اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ٹھکانے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے انھوں نے جنوبی لبنان میں ہتھیاروں کے ذخیرے کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جمعہ کے روز ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپ حزب اللہ کے ارکان کو المجادل کے علاقے میں واقع اس عمارت میں راکٹ لے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے اسلحے کے گودام کو نشانہ بنایا اور حزب اللہ کے ان ارکان کو ’ختم‘ کر دیا۔