مالیگاؤں کے مسلم ریزرویشن قافلہ کو تھانے پولس نے کیا گرفتار

مسلم ریزرویشن کی بحالی کو لے کر نکلنے والا مالیگاوں کا قافلہ بھیونڈی پہنچ کر پیدل مارچ کی شکل میں ممبئی کے لئے رواں

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- مسلم ریزرویشن کی بحالی سمیت گیارہ اہم مطالبات کے ساتھ آصف شیخ رشید کی قیادت میں سیکڑوں افراد کا قافلہ آج صبح بھیونڈی پہنچا ۔ جس کے بعد یہ قافلہ پیدل مارچ کی شکل میں ممبئی کے لئے روانہ ہوا تھا ۔ مگر اس مارچ میں شامل سینکڑوں افراد کو کلوا پولیس نے تھانے کی حد میں داخل ہوتے ہی حراست میں لے لیا ہے ۔ اس بارے میں پولیس نے اب تک کوئی بھی معلومات فراہم نہیں کی ہے ۔ تاہم ذرائع کے مطابق پرمیشن میں خامیوں کی بنیاد پر مارث کو روکتے ہوئے گرفتاری عمل میں لائی جانے کی معلومات موصول ہورہی ہے ۔

This slideshow requires JavaScript.

قبل ازیں بھیونڈی کے فلورا ہوٹل پر مارچ کی قیادت کرنے والے رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے حاضرین و اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کے یہ تحریک غیر سیاسی ہے جو گزشتہ 2013 سے مسلسل چلائی جارہی ہے ۔ اس وقت میری پارٹی اقتدار میں تھی اورکانگرس پارٹی کا صدر ہوتے ہوئے بھی میں نے اپنی قوم کے لئے مالیگاوں سے ممبئی تک 300 کلو میٹر کاپیدل مارچ کیا تھا تاکہ مہاراشٹر میں ہمارے نوجوان کو تعلیم اور سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن ملیں ۔ بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے آصف شیخ نے کہا کہ 2016 میں مرکز اور ریاست میں اقتدار پر بی جے پی کے قابض ہوتے ہی فرقہ پرست تنظیموں کو جو آزادی ملیں اس سے اقلیتیوں پر حملے و مظالم بڑھ گئے تب بھی ہم لوگوں نے موپ لانچنگ کے خلاف مالیگاوں سے ناسک تک مارچ نکالا تھا ۔ انھوں نے مزید کہا کے اسمبلی میں آواز اٹھانے اور متعدد احتجاج و مارچ نکالنے کے بعد بھی یہ حکومت ہمارے مطالبات سننے کو تیار نہیں اسی لئے آج ہم نے یہ مارچ نکالا ہے ۔ لیکن ملک کے حالات اور پلوامہ حملے کو نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کے مارچ کو ناسک سے ممبئی کے بجائے بھیونڈی سے ممبئی تک کردیا گیا ۔ آصف شیخ نے کہا کے سرکار سے ہمارا یہی مطالبہ ہے کے یہ ریزرویشن کوئی مذہبی بنیاد پر نہیں دیا گیا تھا بلکہ مسلم سماج میں 50 ذاتیں جو پشماندہ ہے انھیں دیا گیا تھا اور اس پر ہائی کورٹ نے بھی مہر لگائی تھی کے تعلیمی میدان میں اس ریزرویشن ملنا چاہئے اس کے بعد بھی موجودہ حکومت نے اس پر قانوں نہیں بنایا اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کے مسلم ریزرویشن کو بحال کیا جائے ۔

واضح ہو کے بھیونڈی کلیان بائی پاس پر واقع فلورا ہوٹل پر مسلم ریزرویشن کی بحالی کو لے کر مالیگاوں سے بھیونڈی پہنچنے والے مالیگاوں قافلے کو شہر کی نمائندگی کرتے ہوئے شہر کے شر کردہ افراد شہر کے بزرگ رہنما فیضان اعظمی ، معروف قانون داں ایڈوکیٹ یاسین مومن ، سابق رکن اسمبلی محمد علی خان،سابق رکن اسمبلی ایڈوکیٹ رشید طاہر مومن، سابق چئیرمین و ایم پی سی سی جنرل سکریٹری طارق یونس فاروقی ، انس انصاری ، سابق ڈپٹی مئیر ڈاکٹر نورالدین نظام الدین انصاری ، مائیناریٹی صدر طفیل فاروقی، سینئر لیڈرفضل خان ،اعجاز انصاری ، مہیلا صدر ریحانہ انصاری، ذکی محبوب انصاری، پرویز خان پی کے ، مہاراشٹر نیائے منچ کے خان فخر عالم ، تاج انصاری کے علاوہ شہر کی مختلف تنظیموں اور سیاسی پارٹی کے لیڈران کے ہمراہ اردو اخبارات کے نمائندوں نے مارچ میں شامل شرکاء کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا ۔

بتا دیں کے سنیچر کی رات گیارہ بجے ایم ایل اے پبلک سروس سینٹر اپنا سوپر مارکیٹ سے روانہ ہوتے ہوئے آج یہاں اتوار کی صبح دس بجے بھیونڈی کلیان بائی پاس پہنچا جہاں سے یہ قابلہ پیدل مارچ میں تبدیل ہوکر اپنی منزل کی طرف رواں ہوگیا جو 26 فروری منگل کی صبح دس بجے ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے ہیڈ کوارٹر خلافت ہاؤس سے یہ قافلہ آزاد میدان پہنچ کر خیمہ زن ہو گا ۔ وہیں ایم آر ایف کے مقامی ذمہ داران نے بتایا کہ بھیونڈی تا ممبئی پچاس کلو میٹر کے پیدل مارچ کیلئے بڑی تعداد میں لوگوں نے خواہش کا اظہار کیا ہے تاہم موجودہ حالات اور پولیس انتظامیہ کی شرطوں کو ملحوظ رکھتے ہوۓ صرف سو منتخب افراد کو مارچ میں شریک کیا گیا ہے جس میں وہ پچاس طبقات کو ترجیح دی گئی جنہیں 2014 میں دئیے گئے مسلم ریزرویشن کی پچاس ذاتوں کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا تھا۔ ان میں مختلف مدرسوں کے فارغین کو بھی سر نیم کے اعتبار سے ریزرویشن دیا گیا تھا ۔ان میں قاسمی نوری محمدی صوفی فاروقی صدیقی مقادم رضوی کاملی مہندی حیدری علوی عثمانی قادری نقشبندی کاغذی چشتی خطیب وغیرہ شامل تھے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading