لیبیا: تریپولی میں جاری تشدد، اب تک 653 افراد ہلاک

تریپولی: لیبیا کے دارالحکومت تریپولی پر فیلڈ مارشل خلیفہ ہفتار کی قیادت والی لیبین نیشنل آرمی (ایل این اے) کے حملے شروع ہونے کے بعد اسے اب تک کم از کم 653 افراد کی موت ہوچکی ہے اور تین ہزار 547 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

صحت کی عالمی تنظیم (ڈبلیو ایچ او) نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او اس سے پہلے اپنی ایک رپورٹ میں 607 افراد کے مارے جانے اور تین ہزار 361 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی بات کہی تھی۔

ڈبلیو ایچ او نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ قومی معاہد حکومت (جی این اے) اور ایل این اے کے درمیان جاری لڑائی کی وجہ سے تریپولی میں کم از کم 653 افراد مارے گئے ہیں اور 3547 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ موجودہ وقت میں تریپولی پر جی این اے کا قبضہ ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے ٹوئٹر پر لکھا،’’تریپولی جھڑپ میں اس گزرے ہفتے میں عام لوگوں کے ساتھ تین صحت اہلکار بھی مارے گئے۔ اس کے ساتھ ہی لیبیا کے دارالحکومت تریپولی میں جاری لڑائی میں 653 افراد کی موت ہوئی ہے، جس میں 41 عام شہری ہیں اس کے علاوہ 3547 زخمی ہوئے ہیں جن میں 126عام شہری ہیں۔

واضح رہے کہ ہفتار نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جی این اے کے قبضے سے تریپولی کو آزاد کراکر اس پر اپنا قبضہ قائم کرنے کے لئے جدوجہد شروع کی ہے۔ ایل این اے نے تریپولی کے نزدیک واقع کئی گاؤں اور لیبیا کے دارالحکومت سے تقریباً 20 میل دور واقع تریپولی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔ جی این اے کے تئیں وفادار فوجوں نے ہفتار کی کارروائی کو قابل توہین قرار دیتے ہوئے اس کےخلاف مہم چلانے کی بات کہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ لیبیا کے طویل عرصے تک حکمراں رہے کرنل محمد قذافی کے سال 2011 میں انتقال کے بعد سے ملک بحران کا شکار ہے۔

Source بشکریہ قومی آواز بیورو—

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading