اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے تاریخی مقام گھنٹہ گھر پر شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف گذشتہ 8 دنوں سے جاری احتجاج کے دوران سنیچر کو پولیس نے تحریک کاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئےسماجی وادی طلبہ لیڈر پوجا شکلا سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔
وہیں دوسری جانب پولیس کی کارروائی اور گرفتاری کے باوجود تحریک کارخواتین کے حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی اور ان کا مظاہرہ نویں دن بھی جاری رہا۔ مظاہرین کی گرفتاری سے تحریک کارخواتین میں کافی اشتعال دکھا اور انہوں نے پولیس پر یک طرفہ کارروائی کا الزام لگاتےہوئے انہیں فورا رہائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس کے مطابق آج کچھ لوگوں نے آس پاس الٹی سیدھی گاڑیاں کھڑی کر کے پولیس کے کام میں خلل ڈالنے کی کوشش کی جس کے پاداش میں ایک خاتون سمیت 8 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس مزید انکوائری کر رہی ہے اور رپورٹ کے مطابق آگے کی کارروائی کرے گی۔
تحریک کار خواتین نے پولیس پر گندگی گندگی گالیاں دینے کا الزام لگایا ہے کہ پولیس نے انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ’’ تم لوگوں کو گھسیٹ کر مارونگا،جیل میں ٹھونس دونگا،سارے برقعے اتار کر پھینک دوں گا،پولیس نے پوجا شکلا کو بنا کوئی وجہ بتائے گرفتار کرلیا ہے‘‘۔
اطلاعات کے مطابق سنیچر کو پولیس نے گھنٹہ گھر پر موجود مردوں کو وہاں سےدوڑا دوڑا کر بھگارہی ہے تو وہیں کچھ خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال بھی کیا۔ مخالفت کرنے پر پولیس نے تحریک کار خواتین میں موجود پوجا شکلا کو گرفتار کرلیا۔ساتھ ہی پولیس نے آس پاس موجود والنٹرئس کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کرلیا۔
پولیس نے کارروائی کے بعد آس پاس کے علاقوں میں آر اے ایف کو تعینات کردیا ہے۔پولیس لگاتار گشت کررہی ہے اور کسی بھی گاڑی کو وہاں رکنے نہیں دے رہی ہے۔اس سے قبل رات میں پولیس نے ٹھاکر گنج پولیس اسٹیشن میں مولانا کلب صادق کے بیٹے کلب سبطین سمیت 10 نامزد اور 100 سے زیادہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
پولیس نے آج عادل نسیم،شیخ طاہر،کلب سبطین،محمد انس،لئیق حسن،ارشد عالم خان،محمد یامین،محمد اکرم،قیوم،نیتا صفات و دیگر 100 سے زیادہ نامعلوم افراد کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورز ی کرنے،پرتشدد نعرے لگانے، اور گھنٹہ گھر کے چاروں طرف گھوم گھوم کر جلوس نکالنے کے الزام میں دفعہات 145،147،188،283،353، کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
ملحوظ رہے کہ تحریک کاروں پر دباؤ بنانے اور احتجاج ختم کرانے کے لئے گذشتہ 20 جنوری کو بھی لکھنؤ پولیس نے تحریک کار مشہور شاعر منور رانا کی دو بیٹوں سمیہ اور فوزیہ سمیت 150 افراد کےخلاف تین ایف آئی آر کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ٹھاکر گنج تھانے میں تین الگ الگ مقدموں میں تحریک کار خواتین پر راستہ جام کر کے احتجاج کرنے، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد وائرل کرنے، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور بلوا کا الزام لگایا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ گھنٹہ گھر پر شروع ہونے والے احتجاج کو ختم کرانے کے لئے پولیس لگاتار کوششیں کررہی ہے۔گذشتہ 8دنوں کے اندر پولیس نے اپنا ہر حربہ اپنا یا۔جہاں پہلے آس پاس کے بیت الخلاء کو مقفل کردیا تھا تو اب بھی راتوں کو ساری لاٹیں بند کردی جاتی ہیں۔علاقے میں انٹرنیٹ کافی سست ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو