لکھنؤ میٹرو: چیکنگ کے نام پر برقع ہٹانے کا بنایا دباؤ، مچا بوال

لکھنؤکے موییا میٹرو سٹیشن پر مسلم خواتین کے نقاب ہٹانے کو لے کر منگل کو تنازعہ کھڑا ہو گیا۔یہاں چیکنگ کے نام پر گارڈوں نے کیبن کے باہر ہی خواتین سے نقاب ہٹانے کو کہا۔جب خواتین نے احتجاج کیا تو گارڈوں نے ان پر دباؤ بنایا۔ اس معاملے میں عورت کے رشتہ داروں نے میٹرو حکام کو خط لکھ کر شکایت کی ہے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

عالم باغ رہائشی معاذ احمد کے مطابق، وہ عورت کے رشتہ داروں کے ساتھ منگل کی شام 7:45 پر موییا میٹرو سٹیشن پہنچے تھے۔معاذ کا الزام ہے میٹرو سٹیشن پر چیکنگ کے دوران وہاں موجود مرد گارڈوں نے خواتین سے باہر ہی نقاب ہٹانے کو کہا، جبکہ خواتین کا کہنا تھا کہ وہ کیبن کے اندر خواتین گارڈز کو تلاشی دینے کے لئے تیار ہیں، لیکن گارڈز اپنی بات پر اڑے رہے۔اس پر معاذ اور ان کے رشتہ داروں نے سفر کینسل کر اپنی ٹکٹ کے پیسے واپس لے لئے۔

معاذ احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں لکھنؤ میٹرو کے ایم ڈی کمار کیشو کو خط لکھا ہے۔خط میں معاذ نے الزام لگایا کہ میٹل ڈیٹیکٹر اور خواتین کا کیبن ہونے کے باوجود میٹرو میں سکیورٹی کے نام پر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، اس سے انہیں گہرا دھکا لگا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ ہونی چاہئے۔

وہیں، اس معاملے میں ایل ایم آرسی کی سیکرٹری پشپا بیلانی کا کہنا ہے کہ متاثرہ کی جانب سے ہمیں کوئی خط نہیں ملا ہے۔لیکن میڈیا کی جانب سے معاذ احمد کا شکایتی خط آیا ہے۔موییا سٹیشن کے سکیورٹی انچارج سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ کیبن کے باہر خواتین کے نقاب ہٹانے کا اصول نہیں ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading