ممبئی29مئی(یواین آئی) ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے آج یہاں نائراسپتال اور میڈیکل کالج کی ایک ایم ڈی کی طالبہ ڈاکٹر پائل سلیم تڑوی کوخودکشی کے لیے اکسانے کے الزام تین خاتون ڈاکٹروں کو 31مئی تک پولیس تحویل میں دے دیا ہے۔
تڑوی فیملی کے وکیل نتین ساتپوتے نے کہا کہ ان مفرور خاتون ڈاکٹر بھکتی مہیر ،ہیما آہوجہ اور انکیتا کھانڈیلوال کو گزشتہ روز پولیس نے گرفتار کرکے آج عدالت میں پیش کیا۔
اس موقع پر عدالت میں تینوں ڈاکٹرس کی ریمانڈ کے لیے دلائل پیش کرتے ہوئے انہوں نے ایڈیشنل سیشن جج آرایم سدرانی سے کہا کہ اس معاملہ میں قتل کا بھی خدشہ ہے کیونکہ پائل تروی کے جسم کے پوشیدہ مقامات پر زخم کے نشانات بھی پائے گئے ہیں اور اس کا انکشاف پوسٹ مارٹم میں ہوا ہے۔
استغاثہ نے بھی پولیس تحویل میں تفتیش کا مطالبہ کیا تاکہ پتہ لگایا جائے تڑوی نے خودکشی نوٹ چھوڑا ہے یا نہیں ،یا ان تینوں ملزمین نے نوٹ چھپا دیا ہے اور اسے ضائع کردیا گیا ہو۔
پائل تڑوی (25)پوسٹ گریجویٹ طالبہ تھی اور 22مئی کو ہوسٹل کے کمرے میں اس کی لاش لٹکی پائی گئی ،اس کی موت کے بعد اس کے اہل خانہ نے الزم عائد کیا کہ کیونکہ انکا تعلق مسلم قبائل تڑوی سے ہے ،اس لیے تینوں سنیئر ڈاکٹر انہیں اس بنیاد پر ایذیت دیتی تھیں۔اور اس کی شکایت بھی ڈین کو کی گئی تھی۔تینوں ڈاکٹرس فرارتھیں اور انہیں گزشتہ روز گرفتار کیا گیا اور آج عدالت میں پیش کیا گیا ہے،مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریزڈنٹ ڈاکٹرس نے ان کو معطل کردیا ہے اور پھر میونسپل کارپوریشن نے بھی انہیں ملازمت سے معطل کردیا ہے تینوں اسپتال اور کالج کی ملازم ہیں۔ان لا میڈیکل لائنس بھی معطل کردیا گیا ہے ۔
پولیس نے ان کے خلاف تعزیرات ہند میں ایذاءرسانی اور ذات پات قانون کے تحت معاملات درج کیے ہیں۔اس معاملہ میں قومی اورمہاراشٹر کے کمیشن برائے خواتین نے بھی نوٹس جاری کیا ہے۔