نئی دہلی:4ڈسمبر ۔(ایجنسیز) آئندہ سال 2019 میں لوک سبھااورمہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات ایک ساتھ ہوسکتے ہیں ۔ اگر مہاراشٹر کی پھڑنویس حکومت نے مدت سے قبل ریاستی اسمبلی تحلیل کردیاتو پھر چھ ماہ قبل ہی مہاراشٹر اسمبلی انتخابات ہوسکتے ہیں ۔ اس طرح کااشارہ چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا کے معتبر ذرائع نے دیاہے ۔ لوک سبھا کی معیاد مئی 2019 اور مہاراشٹراسمبلی کی معیاد نومبر 2019ءمیں ختم ہورہی ہے ۔یعنی دونوں قانون سازاداروں کی معیاد میں چھ ماہ کافرق ہے ۔ اگر لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ریاستی اسمبلی کے چناو¿ منعقد کرنا ہوتو ریاستی اسمبلی کو چھ ماہ قبل ہی تحلیل کرنا ہوگا ۔ یاد رہے کہ وزیراعظم مودی لوک سبھا کے ساتھ ہی ریاستی اسمبلی کے انتخابات منعقدکرنے کے حق میں ہیں ۔اس طرح وقت ‘ محنت ‘سرمایہ میں کافی بچت ہوگی کیونکہ الیکشن کے اخراجات کابوجھ عام شہریوں پر پڑتا ہے س کے لئے حکومتوں کو مختلف ٹیکس میں اضافہ کرنا پڑتا ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم اور بی جے پی کا ارادہ ہے کہ وہ لوک سبھا کے انتخابات اُن ریاستوں میں ایک ساتھ کرناچاہتی ہے جن میں بی جے پی برسراقتدار ہے ۔ مدھیہ پردیش ‘راجستھان ‘چھتیس گڑھ ‘تیلنگانہ اور میزورم میں انتخابات کاعمل جاری ہے اور 11 ڈسمبر کونتائج آنے والے ہیں اسلئے بی جے پی اور وزیراعظم ان نتائج کے رجحانات کومدنظررکھ کر لوک سبھا کے ساتھ ہی اسمبلی چناو¿ کروائیںگے ۔اس لئے ایک دو ہفتہ میں تصویر کے صاف ہونے کی امید ہے ۔ تلنگانہ کی تازہ مثال ہے جہاں کے اسمبلی چناو¿ لوک سبھا کے ساتھ اپریل مئی 2019 میں ہونے تھے لیکن کے سی آر حکومت نے چھ ماہ قبل ہی اسمبلی تحلیل کردی تھی اور چناو¿ کی سفارش کی تھی۔ آندھر اپردیش ‘ اڑیسہ ‘ سکم اور اروناچل پردیش اسمبلیوں کی معیاد مئی تا جون 2019ءمیں ختم ہورہی ہے ۔جموں کشمیر ودھان سبھا تحلیل کردی گئی ہے وہاں چھ ماہ میں انتخابات ہونا لازمی ہیں ۔ مذکورہ پانچ ریاستوں میں لوک سبھا کے ساتھ ہی ودھان سبھا چناو¿ منعقد کروانے کے لئے غوروفکر جاری ہے ۔ اگرمہاراشٹر اور ہریانہ ان دونوں ریاستوں کی حکومتوں نے چند ماہ قبل ہی ودھان سبھا تحلیل کرنے کافیصلہ کردیاتو پھر مذکور ہ پانچ ریاستوں اور مہاراشٹر وہریانہ کے انتخابات لوک سبھا کے ساتھ ہی ہوسکتے ہیں ۔ سیکوریٹی اور سہولت کے لئے لو ک سبھا اور ریاستی اسمبلی چناو¿ ایک ساتھ لینافائدہ بخش ہے اس لئے برسراقتدار پارٹیوں کی حکومتیں اور چیف الیکشن کمیشن لوک سبھااور ودھان سبھا چناو¿ایک ہی وقت میں منعقدکرنے کے بارے میں غورکررہی ہیں ۔2014ءکے لوک سبھا چناو¿ کے لئے 4مارچ 2014 کو مثالی انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوگیاتھا اس لئے اس برس بھی مارچ میں ضابطہ اخلاق نافذ ہوسکتا ہے ۔اس لئے پھڑنویس حکومت کو جنوری 2019 تک ریاست میں چناو¿ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرنا ہوگا ۔