آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر، پاپولر فرنٹ آف انڈیا ۶مارچ۲۰۱۹ کو دارالحکومت دہلی میں ’مسلم پالیٹیکل کانکلیو‘ کے نام سے ایک خصوصی پروگرام منعقد کرنے جا رہی ہے، جس میں انتخابی میدان میں اترنے والی تمام سیاسی پارٹیوں کے سامنے اقلیتی طبقے کی جانب سے ’عوامی مطالبات کا مجموعہ‘ پیش کیا جائے گا۔ مختلف ریاستوں سے مدعو کیے گئے مسلم دانشوران، سماجی کارکنان و لیڈران موجودہ قومی و ریاستی حالات پر بحث کے بعدمسلم قوم کے مسائل پر ایک چارٹر تیار کریں گے اور انتخابات میں شرکت کی خواہشمند تمام سیاسی پارٹیوں سے اس کے مناسب حل کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کرنے کے لیے کہا جائے گا۔یہ فیصلہ کیرالہ کے ملپورم میں منعقدہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں لیا گیا۔
اجلاس نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ہرکوئی ۲۰۱۹ کے لوک سبھا انتخابات کو ہندوستان کی تاریخ میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل سمجھ رہا ہے، لیکن اقلیتوں کے وجود اور ترقی کے مسائل کو تمام ہی بڑی سیاسی جماعتوں نے بالکل نظرانداز کر دیا ہے۔ یہ وہی جماعتیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو ہمیشہ ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت حددرجہ اقلیت مخالف رویہ رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں خاص طور سے مسلمانوں کے خلاف تشدد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ہجومی تشدد کی وارداتوں میں اکثر مسلمانوں کو ہی بیف کھانے یا مویشی کی تجارت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق، ۲۰۱۴ میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے منتخب لیڈران کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کے سلسلے میں پانچ گنا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ ہجومی تشدد کے بیشتر معاملوں میں مجرموں کو کوئی سزا نہیں ملی ہے۔ بابری مسجد معاملے میں، مرکزی حکومت غیرقانونی طریقے سے منہدم کی گئی بابری مسجد کے لیے انصاف کی مخالف کر رہی ہے ، بلکہ اس سے بڑھ کر وہ انصاف کو روکنے اور بابری مسجد کی زمین پر رام مندر کی تعمیر کو یقینی بنانے کے لیے سب کچھ کر رہی ہے۔ غیربی جے پی اپوزیشن پارٹیوں کے لیے بابری مسجد معاملہ ایک غیر اہم معاملہ بن گیا ہے اور انہوں نے ۱۹۹۲ میں بابری انہدام کے وقت ملک سے کیے گئے مسجد کی تعمیر نو کے وعدے کو پوری طرح بھلا دیا ہے۔ معاشی بنیاد پر سرکاری ملازمتوں میں دس فیصد کوٹہ کا قانون لاکر جب مرکزی حکومت نے رزرویشن کی آئینی بنیادوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی، تو کانگریس اور لیفٹ جماعتوں دونوں نے اعلیٰ ذات کے اس ایجنڈے کی حمایت کی۔ لیکن دوسری جانب وہ مذہبی اقلیتوں کو پندرہ فیصد رزرویشن دینے کے جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارش پر خاموش بیٹھی رہیں۔
یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ یوپی اے حکومت نے ہی یو۔ اے۔ پی۔ اے۔ جیسا کالا قانون بنایا تھا، جس کا پورا غلط استعمال مودی حکومت اقلیتوں کے خلاف اور مخالفت کی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے کر رہی ہے۔ ایک اور ایجنسی این آئی اے جس کا غلط استعمال مسلمانوں کے خلاف کیا جا رہا ہے ، اس کی تشکیل بھی کانگریس حکومت کی دین ہے۔کسی بھی سابقہ مرکزی حکومت نے ہمارے تعزیراتی قوانین سے غداری جیسی استحصالی شق کو ہٹانے کی فکر نہیں کی۔
موجودہ بدلتے سیاسی حالات میں بڑی پارٹیوں کے اندر مسلمانوں کو مخاطب کرنے سے بھی صاف ہچکچاہٹ نظر آرہی ہے۔ وہ مسلمانوں اور پسماندہ اقلیتی طبقات کے بنیادی سوالوں سے عموما خود کو دور رکھنا چاہتی ہیں، جبکہ ان کا مقابلہ بی جے پی سے ہے جو کہ علی الاعلان ہندوتوا سیاست کا تاج لیے گھوم رہی ہے۔ الغرض، ان پارٹیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک کی اقلیتوں اور حاشیے پر ڈالے گئے طبقات کی آرزؤوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لائق نہیں ہیں۔ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ملک کے موجودہ حالات کا حقیقی جائزہ لیا جائے اور مسلم قوم خود اپنے مستقبل اور ہمارے سیکولر جمہوری ملک کے مستقبل کے لیے حکمت عملی تیار کرے۔ مجوزہ مسلم سیاسی کانکلیو اپوزیشن جماعتوں کو اس لائق بنانے کی ایک کوشش ہے کہ وہ آئین ہند میں مذکور بنیادی سیکولر اقدار کو بنیاد بنا کر لوک سبھا الیکشن میں سامنے آئیں۔
چیئرمین ای ابوبکر نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں جنرل سکریٹری ایم محمد علی جناح، نائب چیئرمین او ایم اے سلام، سکریٹری عبدالواحد سیٹھ و انیس احمد کے علاوہ قومی مجلس عاملہ کے دیگر ارکان شریک رہے۔
ایم محمد علی جناح
جنرل سکریٹری
پاپولر فرنٹ آف انڈیا، نئی دہلی