لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلے میں رعایت کی امید

نئی دہلی۔وزیراعظم مودی نے ’جان بھی، جہان بھی’ کی بات کہہ کر واضح کردیا ہےکہ وہ کورونا وائرس سے لوگوں کی جانچ بچانے کے ساتھ ہی ان کی زندگی اور معیشت کو بھی بچانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں لاک ڈاون کو اب مرحلے وار طریقے سے ہٹایا جائے گا۔ سرکاری ذرائع نے پیر کو بتایا کہ لاک ڈاون 2.0 کو مکمل لاک ڈاون کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ کیونکہ حکومت کچھ اقتصادی کاموں کو شروع کرنے کی چھوٹ دینے پر غوروخوض کررہی ہے۔
ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ اس کے تحت حکومت کمپنیوں اور فیکٹریوں میں کام شروع کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ انہیں ٹاون شپ زون میں تقسیم کیا جائے گا، جہاں مزدور ٹھیک ویسے ہی رہیں گے، جیسے بھیل یا دوسری کمپنیوں کے احاطے میں رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے سبھی مرکزی وزرا سے آج سے دفتر میں آکر کام کرنے کو بھی کہا ہے۔ سبھی وزرا کو یہ بھی احکامات دیئ گئے ہیں کہ وہ متعلقہ محکموں کے جوائنٹ سکریٹری اور اس سے اوپر کے رینک والے افسران کو بھی پیر سے ڈیوٹی پر آنے کو کہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ سبھی محکموں میں ایک تہائی اسٹاف کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔

اس درمیان لاک ڈاون ہٹانےکےلئےکئی مرحلوں میں کام شروع ہوگیا ہے۔ اس کے لئے ملک کو تین زون میں تقسیم کئے جانے کی قواعد شروع کی جارہی ہے۔ اس کے تحت گرین، اورینج اور ریڈ زون بنائے جارہے ہیں۔ لاک ڈاون کو انہیں زون کے حساب سےنافذ کیا جائےگا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading