
نئی دہلی۔ہندوستان میں کورونا بحران کے سبب تاریخ میں پہلی بار ریلوے کا چکہ جام ہو گیا۔ اس چکہ جام کا منفی اثر کچھ ایسا پڑا ہے کہ ریلوے کے پاس اب اپنے ملازمین اور افسران کی تنخواہ اور پنشن دینے لائق بھی پیسے نہیں بچے ہیں۔ خبروں کے مطابق خستہ حالی کے پیش نظر وزارت ریل نے وزارت مالیات کو ایک خط لکھا ہے جس سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں کے مطابق ریلوے نے یہ قدم موجودہ مالی سال میں سبکدوش ہوئے سبھی ملازمین و افسران کو پنشن دینے کے لیے اٹھایا ہے۔ اندازہ ہے کہ ریلوے کو مالی سال 21-2020 میں 53 ہزار کروڑ روپے پنشن کے طور پر دینا ہے۔ لیکن لاک ڈاؤن کے سبب ٹرینوں کا چلنا پوری طرح سے بند ہونے کے سبب آمدنی ایک طرح سے ٹھپ ہو گئی ہے۔
حال ہی میں کچھ اسپیشل ٹرین اور مال گاڑی کا چلنا ضرور شروع ہوا ہے، لیکن اس سے اتنی آمدنی نہیں ہو رہی۔ یہی سبب ہے کہ ریلوے نے اب وزارت مالیات کے سامنے اپنی پریشانی رکھی ہے۔