زرعی کالج لاتور کی دس ایکر اراضی… زرعی یونیورسٹی کا اعلان
لاتور(محمدمسلم کبیر) لاتور ضلع سرکاری اسپتال کے تعمیر کا مسئلہ اب ختم ہونے کو ہے.وسنت راؤ نائیک زرعی یونیورسٹی کے زیر انصرام جاری لاتور شہر کے نانڈیڑ روڈ پر واقع زرعی یونیورسٹی کی ملکیت اراضی میں سے دس ایکر اراضی ضلعی سرکاری اسپتال کے لئے شرائط و ضوابط کو ملحوظ رکھ کر دینے کی قرار داد کو منظوری دی گئی ہے.لاتور ضلع میں گذشتہ کئی برسوں سے ضلع سطحی سرکاری اسپتال کی تعمیرکے لئے اراضی کے حصول میں انتظامیہ سرگرداں تھی. ضلع سرکاری اسپتال نہ ہونے کی وجہ سے عام مریضوں کو گورنمنٹ میڈیکل کالج کے اسپتال میں جانا پڑ رہا ہے جہاں سے مریض مطمئین نہیں ہیں. عوامی نمائندوں کے مطالبات پر ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ عوام کو طبی سہولیات مہیا کرانے کےلئے ضلع سرکاری اسپتال کی تعمیر کے لئے اراضی کے حصول کےےلئے کوشاں تھی.اب وسنت راؤ نائیک زرعی یونیورسٹی کے زیر انصرام جاری زرعی کالج نانڈیڑ روڈ لاتور کی دس ایکر اراضی کے حصول میں انتظامیہ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ضلعی اسپتال کی تعمیر کی راہ میں حائل رکاوٹیں اب ختم ہوچکی ہیں. لاتور ضلع کا سرکاری ضلعی اسپتال گورنمنٹ میڈیکل کالج کواالحاق کرنے کے بعد ضلع اسپتال کا شعبہ ہی ختم ہوچکا تھا.عوامی مطالبات کے پیش نظر حکومت نے ایک جدید و عصری سہولیات سے آراستہ ضلع سرکاری اسپتال کے قیام کی منظوری تو دیدی تھی تاہم اس کے لئے درکار اراضی شہر کے اطراف میں نابلد تھی.جس کی وجہ سے اسپتال کی تعمیر میں تاخیر ہورہی تھی. لیکن نانڈیڑ روڈ لاتور پر واقع وسنت راؤ نائیک زرعی یونیورسٹی پربھنی کے زیر انصرام جاری زرعی کالج لاتور سے ملحقہاراضی میں سے دس ایکر اراضی ضلع اسپتال کو دینے کی قرارداد منظور کی گئی تھی اس اراضی کے حصول کے لئے ایم ایل اے امیت ولاس راؤ دیشمکھ نے 19/ اگست 2014 کو یونیورسٹی کے انتظامیہ کے سامنے تجویز پیش کی تھی تاہم اس وقت یونیورسٹی انتظامیہ نے اس اراضی کو دینے سے انکار کیا تھا. بعد ازاں ضلع کلکٹر لاتور نے ازسرنو یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس تجویز پیش کی تو اس تجویز کو یونیورسٹی انتظامیہ نے 8/ دسمبر 2018 کے اجلاس میں منظوری دینے کی قرارداد پر مہر ثبت کی.جس میں بتایا گیا کہ عوامی صحت، بنیادی طبی سہولیات اور ملٹی اسپشیالیٹی اسپتال کے قیام کے پیش نظر یونیورسٹی دس ایکر اراضی ضلع اسپتال کے لئے دے رہی ہے.اگرچیکہ اس موضوع پر بحث کے لئے ایم ایل اے ونائک میٹے، ایم ایل سی ستیش چوہان اور ایم ایل اے ڈاکٹر راہول پاٹل 11/ دسمبر 2018 کے یونیورسٹی انتظامیہ کے اجلاس میں شرکت نہ کر سکے لیکن عوامی مفاد کے پیش نظر یونیورسٹی کی اس قرارداد سے متفق ہونے کا اعلان کیا ہے. اس اراضی کے حصول کے بعد لاتور ضلع کے سرکاری ضلعی اسپتال کے قیام میمن تیزی آنے کے امکانات ہیں.
واضح ہو کہ زرعی یونیورسٹی کے لئے حاصل کردہ اراضی کے مالک نے اس اراضی کا زائد معاوضہ حاصل کرنے کے لئے ضلعی عدالت میں اپیل کی تھی اور عدالت نے مالک اراضی کی درخواست منظور کرتے ہوئے حکومت اور زرعی یونیورسٹی کو زائد رقم ادا کرنے کا حکم جاری کیا تاہم حکومت اور یونیورسٹی نے ضلع عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اورنگ آباد میں اپیل درج کی تھی.اور معزز ہائی کورٹ کے ایماء پر یونیورسٹی نے مالک اراضی کے لئے زائد معاوضہ کی سو فیصدی رقم 13 کروڑ22 لاکھ 24 ہزار 248 روپئے ہائیکورٹ میں جمع کئے.اب چونکہ معاملہ عدالت میں زیر التوی ہے اس رقم کے علاوہ مالک اراضی کے مطالبے کی ماباقی زائد رقم عوامی شعبہ صحت اور ضلع سرکاری اسپتال ادا کرنے کی شرط یونیورسٹی انتظامیہ نے رکھی ہے.