الیکٹورل بانڈ کو لے کر ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ نیوز ویب سائٹ نیوز لانڈری نے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2017 کے بجٹ سے ٹھیک پہلے خود ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے الیکٹورل بانڈ کی مخالفت کی تھی۔ لیکن مودی حکومت نے آر بی آئی کے اعتراضات کو درکنار کرتے ہوئے الیکٹورل بانڈ کا اعلان کر دیا۔
RBI ने इलेक्टोरल बॉन्ड का विरोध किया-
इससे गुमनाम चंदा व मनी लॉन्ड्रिंग बढ़ेगीमोदी सरकार बताए-
1. कितने हज़ार करोड़ के इलेक्टोरल बॉन्ड जारी हुए?
2. भाजपा को कितने हज़ार करोड़ मिले?
3. एक हाथ दे, दूसरे हाथ ले?क्या ये है हज़ारों करोड़ की भाजपा का मंत्र?https://t.co/CbSMhbFvoR
— Randeep Singh Surjewala (@rssurjewala) November 18, 2019
اس رپورٹ کے آنے کے بعد سے الیکٹورل بانڈ اور مودی حکومت پر کئی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ کانگریس نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے دعویٰ کیا کہ الیکٹورل بانڈ سے گمنام چندے اور دولت جمع کرنے میں اضافہ ہوگا۔
مودی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کانگریس کے قومی ترجمان رندیپ سرجے والا نے سوال کیا کہ برسراقتدار پارٹی کو بتانا چاہیے کہ الیکٹورل بانڈ کے ذریعہ سے اسے کتنے ہزار کروڑ روپے کا چندہ ملا۔ انھوں نے ٹوئٹ کیا کہ ’’آر بی آئی نے الیکٹورل بانڈ کی مخالفت کی جس سے گمنام چندہ اور دولت جمع کرنے میں اضافہ ہوگا۔ اب مودی حکومت بتائے کہ کتنے ہزار کروڑ کے الیکٹورل بانڈ جاری ہوئے۔‘‘
سرجے والا نے سوال کیا کہ ’’بی جے پی کو کتنے ہزار کروڑ ملے؟ کیا یہ ایک ہاتھ لے اور دوسرے ہاتھ دے والی بات ہے؟ کیا یہ ہے ہزاروں کروڑ کی بی جے پی کا منتر؟‘‘ انھوں نے جس میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیا اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکٹورل بانڈ کے انتظام کا آفیشیل اعلان سے پہلے ریزرو بینک نے اس قدم کی مخالفت کی تھی۔
Electoral bonds were cleared by by-passing RBI and dismissing National security concerns in order to enable black money to enter the BJP coffers. It appears that while the BJP was elected on the promise of eradicating black money it was busy lining..
1/2https://t.co/qa6uLLHRIw— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) November 18, 2019
دوسری طرف کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی الیکٹورل بانڈ کو لے کر مودی حکومت کے منشے پر سوال اٹھائے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قومی سلامتی کو درکنار کر کے الیکٹورل بانڈ کو ہری جھنڈی دی گئی تھی۔ پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کر کہا کہ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ بی جے پی کالا دھن بٹور سکے۔ پرینکا گاندھی نے یہ بھی لکھا کہ کالے دھن کو ختم کرنے کے وعدے کے ساتھ بی جے پی اقتدار میں آئی تھی، لیکن وہ خود اس سے جڑی رہی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
