قومی آواز کا نظریہ: امریکہ کو جواب دینے کی ضرورت… ویڈیو

مسئلہ کشمیر کے تعلق سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل جو بیان دیا ہے اس نے ایک ساتھ کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں اور بر صغیر کی سیاست میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔

اگر ٹرمپ کے اس بیان کو صحیح مان لیا جائے کہ دو ہفتہ پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کے ساتھ ایک ملاقات میں ان سے کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کے لئے کہا تھا تو اس سے دو بڑے سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک بڑا سوال تو یہ ہے کہ وزیر اعظم کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں کشمیر کے مسئلہ پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول ہے یعنی اس مسئلہ پر کیا ہماری خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم کو ایسی کسی درخواست کی ضرورت نہیں ہے اور امریکہ چاہے کتنا بھی طاقتور ملک کیوں نہ ہو، ہمیں اپنے داخلی مسائل کے حل کے لئے اس کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بیان پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں دینے کے پیچھے امریکی صدر شائد یہ تاثر پیش کرنا چاہتے تھے کہ وہ چوہدری ہیں، ان سے ہندوستان بھی ثالثی کے لئے درخواست کر چکا ہے۔ امریکہ اور خاص طور سے امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہیں کیونکہ پوری دنیا کے حکمراں ان سے اپنے مسائل حل کرانے کے لئے کہتے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ وہ ملک اور اس کا صدر کہہ رہا ہے جس کے اپنے صدارتی انتخابات پر روس کی مداخلت کے الزام خود ان کے ملک میں لگتے رہے ہیں۔ شمالی کوریا اور ایران کے سامنے جو اس ملک کی حالت ہے وہ جگ ظاہر ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور خود وزیر اعظم نریندر مودی کو ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کا سختی سے جواب دینا چاہیے تاکہ یہ واضح پیغام جا سکے کہ ہندوستان ایک آزاد ملک ہے جس کی اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسی ہے، اس کو نہ تو کوئی ڈکٹیشن دے سکتا ہے اور نہ ہی اس کے مسائل پر کوئی اپنی مرضی سے بیان دے سکتا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading