ریاستی وزیر اعلی دیوندر فڑنویس قحط سالی سے پریشان حال کسانوں سے ملاقات کرنے سے بھی گریز کررہے ہیں.اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت میں قحط سالی کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے.مہاراشٹر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رادھا کرشن وکھے پاٹل لاتور ضلع کے اوسہ اور عثمان آباد ضلع کے لوہارہ تعلقہ کے قحط سالی کا جائزہ لینے کے لئے آئے تھے. انھوں نے اوسہ تعلقے کے موضعات اجنی, بیلکنڈ, سون چنچولی, مالومبرا, ہپرگہ،مالکونڈجی، دیوتالا، ماتولا اور لوہٹا ان مقامات پر پہنچ کر کسانوں سے تبادلئہ خیال کیاان کے مسائل اور وہاں موجود فصلوں تالابوں, بورویلز اور باولیوں و کنوؤں کا بھی جائزہ لیا.اس وقت کسانوں نے کہا کہ حکومت قحط سالی کے تعلق سے کسی بھی قسم کے انتظامات کرنے سے منہ موڑ رہی ہے محض اعلانات کرنے کے بجائے کسانوں کو امداد کی ضرورت ہے.
قحط سالی کا سامنا کرنے کی ہمت وزیر اعلی میں نہیں:رادھا کرشن وکھے پاٹل
لاتور (محمدمسلم کبیر)ریاست مہاراشٹر کےکئی اضلاع میں قحط سالی کا ماحول ہے.حالانکہ ان تمام اضلاع کے انتظامیہ کی جانب سے اس قحط سالی کی مفصل رپورٹس حکومت کو ترسیل ہوئی ہے. اس ضمن کے تمام اعداد و شمار سامنے ہونے کے باوجود اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے حکمراں جماعت غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے.دراصل حکومت ہی غیر ذمہ دار ہے یہ بات مہاراشٹر اسمبلی کے قائد حزب اختلاف رادھا کرشن وکھے پاٹل نے اوسہ اور لوہارہ تعلقے کے دورے کے دوران کہی.انھوں نے سوال کیاکہ کیا حکومت اب مریخ کا دورہ کرکے قحط سالی کا جائزہ لے گی
قحط سالی سے متاثرہ دیہاتوں کے دورے سے لوٹنے کے بعد کانگریس قائد رادھا کرشن وکھے پاٹل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اپنی ذمہ داری مرکزی حکومت پر دھکیل رہی ہے. اگر مرکزی حکومت کے اشاروں پر قحط سالی کا اعلان کرنا ہے تو ریاستی حکومت آخر کیا کام کررہی ہے.یہ سوال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موسم خریف کی فصلیں بارش کی کمی سے برباد ہوگئیں کور موسم ربیع میں بیج بوائی کی ہی نہیں گئی اس طرح کے مشکل وقت میں ریاستی حکومت کو چاہئے کہ کسانوں کو فی ہیکٹر 50 ہزار روپئے ادا کریں. باربردار جانوروں کے پرورش کی ذمہ داری بھی حکومت کی ہے اس جانب سنجیدگی کےاظہار کی بجائے حکومت کو اور شیوسینا کو آونی شیرنی کے شکار کی فکر لگی ہے. کسانوں بار بردار جانورں کی طرف قطعی عدم توجہی ہے.بلکہ دیگر مسائل میں الجھا کر حکومت کسانوں کو ان کے مسائل سے توجہ ہٹانے میں مصروف ہے. رادھا کرشن وکھے پاٹل نے کہا کہ 19/ نومبر سے شروع ہونے والے سرمائی اسمبلی سیشن میں قحط سالی کے عنوان سے حکومت کو جھنجوڑ دینگے. اور اپنے مطالبات کے مدنظر ایوان کی کاروائی روک دینے کی تیاری کا اظہار کیا. پریس کانفرنس میں کانگریس قائد ایم ایل اے بسوراج پاٹل مورومکر نے بھی قحط سالی سے ہونے والے نقصانات کی طرف توجہ مبذول کرائی. کانگریس قائد رادھا یرشن وکھے پاٹل نے حکمران جماعت کو ٹھمکی دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کسانوں کی مصیبت اور صبر مزید امتحان لے ورنہ مہنگاپڑیگا.
دو سال قبل لاتور شہر کو ریلوے کے ذریعے آب رسانی کی گئی تھی.اب چونکہ اسی طرح کی حالات سے گذرنے کی نوبت آنے کے امکانات ہیں اس لئے لاتور کے لئے اجنی پروجیکٹ سے آبی سربراہی کرنا ہی اس مسئلے کا حل ہے.اس طرح کا مطالبہ لکتور شہر کے ایم ایل اے امیت دیشمکھ نے حکومت سے کیا ہے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دے کر حکومت کرشنا کھورے پروجیکٹ میں موجود محفوظ آبی ذخیرہ لاتور کو دیا جائے حالانکہ کارپوریشن انتخابات میں ریاستی وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے لاتور شہر کے آبی مسئلے کو فوری حل کرنے کا تیقن دیا تھا تاہم وزیر اعلی اپنے اس بیان سے مکرتے نظر آرہے ہیں.یہ بات رادھا کرشن وکھے پاٹل نے کہی.