عمری:31اگست(ورق تازہ نیوز)عمری شہر میں ریلوے گیٹ کی وجہہ سے شہر دوحصوں میں تقسیم ہوگیا ہے ۔ جس کی وجہہ سے شہر کے اسلا م پورہ او روینکٹیش نگر میں مسلمانوں کےلئے قبرستان اور ہندو ﺅ ں کے لئے شمشان بھومی کانظم نہ ہونے سے انھیںد و کلومیٹر دور ریلوے ٹریک کوعبور کرکے جنازہ لے جانا پڑتا ہے۔
گزشتہ تیس سالوں سے اس سنگین مسئلہ کی طرف مقامی انتظامیہ کی توجہ مبذول کروائی جارہی ہے لیکن کوئی بھی توجہ نہیں دے رہا ہے۔جسکی وجہہ سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔بالخصوص حکومت کے پاس گائرن پٹے ہے اسکے باوجود انتظامیہ لاپرواہی کامظاہرکررہا ہے۔ عمری شہر کا نصف حصہ یعنی پانچ ہزار کی آبادی والاعلاقہ اسلام پورہ اور وینکٹیش نگر‘شکشک کالونی ہے ۔ اس علاقہ کے جلوس جنازے کو دو کلومیٹر کے فاصلے تک کندھے پر لے جانا پڑتا ہے۔
اگر ریلوے گیٹ بند رہتا ہے توٹرین کی آمد تک جنازے کو یہاںروک کر رکھنا پڑتا ہے۔ضلع کے کئی چھوٹے دیہاتوں میں بھی حکومت نے قبرستان و شمشان بھومی کےلئے اراضی مختص کروائی ہے ۔عمری تعلقہ کامقام ہے یہاںپر ہندواور مسلم سماج کو اسلام پور اور وینکٹیش نگر میں شمشان بھومی کےلئے جگہ دستیاب نہیں ہے ۔شہر وآس پاس کے علاقہ میں حکومت کے گائرن پٹے ہیںجہاں پر شمشان بھومی اورمسلم قبرستان کےلئے جگہ دینے کامطالبہ کیاجارہا ہے۔اس ضمن میں عمری کے چیف ایگزیکٹٰو آفیسرگنیش چاٹے سے ربط قائم کرنے پرانھوںں نے کہا کہ ہم نے ضلع کلکٹر کے پاس جگہ کےلئے مکتوب دیا ہے۔اسلام پورہ اور وینکٹیش نگر میں ہندو اور مسلم لوگوںکےلئے قبرستان کیلئے سروے نمبر 12 کے گائرن پٹے سے جگہ دی جائے گی اور جگہ کی پیمائش کےلئے لینڈ ریکارڈ میںفیس جمع کروائی گئی ہے اور جلد ہی مسئلہ حل ہوجائے گا۔